اشاریہ کلام اقبال
بٹن پر کلک کریں
اقبال کی طویل نظمین
بٹن پر کلک کریں
کلیاتِ اقبال، فارسی
تبصرہ: ڈاکٹر رفیع الدّین ہاشمی برّ ِعظیم میں علّامہ اقبال کی شہرت اُن کی اُردو شاعری کی وجہ سے ہے لیکن یہ امر مسلّمہ ہے کہ اقبال کا فارسی کلام کیفیت و کمیّت، دونوں اعتبار سے اُن کے اُردو کلام پر حاوی ہے۔ علّامہ اقبال کے زمانے میں، شعر گوئی کی فارسی روایت بمقابلہ اردو، کہیں زیادہ پختہ تھی۔ چنانچہ ۱۹۳۴ء تک، اردو کے ایک مجموعے (بانگِ درا) کے مقابلے میں فارسی میں علّامہ کی چھے کتابیں (اسرارِ خودی، رموزِ بے خودی، پیام ِ مشرق،زبورِ عجم، جاوید نامہ اورمسافر)شائع ہوچکی تھیں۔ ۱۹۳۴ء کے بعد اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر گوئی کا سلسلہ وفات تک جاری رہا مگر اِن پانچ برسوں کی شعر گوئی میں بھی فارسی کلام کا پلّہ بھاری ہے۔ اشعار کی تعداد سے قطعِ نظر ، فن، اسلوب اور شاعرانہ خوبیوں کی بِنا پر آخری پانچ برسوں کا فارسی کلام ڈاکٹر یوسف حسین خاں کے بقول ”باعثِ فخر“ ہے۔ (حافظ اور اقبال ، ص ۳۵) اہلِ ایران بھی اس بات پر متعجب تھے کہ شبہِ قارہ سے ایسا فارسی گو؟ غلام حسین صالحی علّامی لکھتے ہیں: ”زبانِ اصلیِ او پارسی بنودہ تا چہ حددر تعبیرِ معانی و تشبیہات واستعاراتِ لطیف استادی و مہارت از خود نشان دادہ است کہ گوئی زبانِ مادریِ او پارسی است۔“(یک چمنِ گل، ص ۱۳-۱۴( حقیقت یہ ہے کہ فارسی شاعری میں اقبال کی آواز منفرد اور ممتاز تھی۔ سادگی و سادہ بیانی کے باوجود اُن کے بے باک انقلابی لہجے ، تخیّل کی رنگینی اور جولانی، فکری اور اسلوبی اِبداعات ، لفظی اور تراکیبی اختراعات، غنائیت اور ڈرامائیت نے شعر اقبال کو، فارسی شاعری کی تاریخ میں ایک ایسا مقام عطا کیا ہے کہ اُنھیں روایتی انداز کے لسانی اور شعری دبستانوں میں سے کسی ایک کے ساتھ مخصوص و منسلک نہیں کر سکتے۔ایران کے معروف عالم اور دانش وَر ڈاکٹر حسینی خطیبی کا خیال ہے کہ: ”ایں شاعر سبکے مخصوص بہ خود داشت کہ شاید مناسب باشد، آں را بنام ِشاعر سبکِ اقبال بخوانیم۔“(رومیِ عصر ، ص۱۵۵) کسی شاعر کے لیے ایک غیر زبان میں اظہارِ بیان کی ایسی قدرت و مہارت بہم پہنچا لینا کہ اہلِ زبان کو بھی اعتراف کرتے ہی بنے، ایک غیر معمولی بات ہے اور نہ صرف فارسی ادب کی تاریخ بلکہ عالمی ادبیات میں بھی یہ ایک نادر مثال ہے۔(تصانیفِ اقبال کا تحقیقی مطالعہ ، ص۱۰۱) کلیاتِ فارسی کی اشاعت بھی اُردو کلیات کے مقابلے میں کم رہی۔ اِس وقت جہاں اُردو کلیات تقریباً درجن بھر ناشرین شائع کر رہے ہیں، فارسی کلیات وحدہٗ لاشریک ناشر شائع کرتا ہے۔ تقریباً ۴۶ برس سے یہی ایک نسخہ درجنوں اغلاط کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اس صورت ِ حال میں خاصے عرصے سے ایک بہتر اورنسبتاً صحیح تر نسخۂ کلیاتِ فارسی کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ اقبال اکادمی پاکستان نے حال ہی میں کلیاتِ اقبال فارسی کا ایک بہتر ایڈیشن شائع کیا ہے۔ اِسے اکادمی کے نائب ناظم (ادبیات) ڈاکٹر طاہر حمید تنولی صاحب نے ایک مشاورتی کمیٹی (ڈاکٹر معین نظامی۔ڈاکٹر تحسین فراقی۔ ڈاکٹر رفیع الدّین ہاشمی)کی اعانت سے مرتّب کیاہے۔صحتِ متن کے علاوہ، زیرِ نظر نسخے کا ایک امتیاز یہ ہے کہ اسے علّامہ اقبال کے پسندیدہ کاتب عبدالمجید پرویں رقم اور اُن کے فرزند ابنِ پرویں رقم کی خوش نویسی میں شائع کیا گیا ہے۔ اِس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ کمپوز کاری کے سامنے دم توڑتی خوش نویسی، زیرِ نظر کلیات میں محفوظ ہو گئی ہے۔ اِس نسخے کا مطالعہ کرتے ہوئے ، قاری یہ تصوّر کرکے کہ وہ اُسی کتابت میں کلام ِاقبال کا مطالعہ کر رہا ہے جس میں علّامہ نے اپنے فارسی مجموعے شائع کروائےاور وہ بھی اِسی کتابت کا مطالعہ کرتے تھے،ایک خوش گوار احساس سے دوچارہوتا ہے۔ زیرِ نظر نسخۂ کلیات کو دیگر نسخوں(بشمول خطِ نسخ میں مطبوعہ ایرانی کلیات) کے مقابلے میں برّ ِ عظیم میںبالیقین زیادہ پذیرائی ملے گی کیونکہ ایرانی نسخ کتابت سے ہم لوگ مانوس نہیں ہیں۔ہماری تجویز ہے کہ آئندہ اشاعت میں اِکّادُکّا غلطیوں کی تصحیح کے ساتھ اقبال کے دست نوشت کلام کےچند عکس بھی شامل کر دیے جائیں۔(ناشر: اقبال اکادمی پاکستان، لاہور۔۲۰۱۹ء۔صفحات:۱۳۴۸۔قیمت:۱۴۰۰ روپے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقبال اور تعلیم
اقوام عالم کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہو گا کہ قوموں کے عروج و زوال کا تعلیم سے گہرا تعلق رہا ہے۔علم اور تعلیم کے ثمرات و برکات ہی قوموں کو ترقی کی طرف لے جاتے ہیں۔زمانۂ قدیم میں یونان، علوم و فنون کی وجہ سے اقوامِ عالم کا اما م اور راہنما تھا۔قرون ِوسطیٰ میں یہ اعزاز مسلمانوں کو حاصل ہوا تو فقط علم اور تعلیم کی وجہ سے(سپین میں مسلمانوں کی تاریخ گواہی دیتی ہے۔)آج مغرب عالمِ اقوام کا اما م ہے تو محض علم اور تعلیم کی وجہ سے۔ علم اور تعلیم کی افادیت ’’علمِ نافع‘‘سے وابستہ ہے یعنی علم برائے علم نہیں بلکہ علم برائے انسانی سربلندی اور خوشحالی۔مسلمانوں کے ہاں تو علم کی اہمیت اس لیے ہے کہ سرچشمۂ علم ،خالقِ کائنات ہے۔اس نے عَلَّمَ آدَمَ الْاَ سْمَاءکُلَّھَا کے ذریعے انسان کو ملائکہ پر فوقیت عطا کی اور عَلَّمَ الْاِ نْسَا ن مَالَمْ یَعْلَمْ فرما کر انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔اسلام میں علم کی اہمیت دو گنا ہے۔ فرمانِ رسولﷺ ہے: طَلَبُ الْعِلْمُ فَرِیْضَۃ عَلٰی کُلّ ِ مُسْلِمِ وَّ مُسْلِمَۃ ،پھر آپﷺ نے یہ بھی فرمایا : اِنَّمّا بُعِثْتُ مُعَلّمَا یعنی مجھے اپنی امّت کے لیے معلّم بنا کر بھیجا گیا ہے بلکہ خالقِ کائنات نے عَلّمُھُمُ الْکِتَابَ وَ الْحِکْمَۃ فرما کرآنحضورﷺ کو مامور کیا کہ وہ لوگوں کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں۔ اس علم کے اثرات بہت دُور رس اور وسیع ہیں۔ اسلام کا مطمحِ نظر یہ ہے کہ خلقِ خداعلم اور تعلیم سے فیض یاب ہو۔ جنگِ بدر میں جو کفّار قید کیے گئے،ان میں سے جو پڑھے لکھے تھے ، ان کی رہائی کے لیے یہ شرط رکھی گئی کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیں۔مسلمانوں کے ہاں حصولِ علم کےلیے سفر کی ایک توانا روایت موجود ہے ۔طالبانِ علم سالہا سال تک گھر سے دوررہ کراور دُور دراز کے خطرناک سفر کر کےتعلیم حاصل کرتے تھے۔شیخ عبدالقادرجیلانی کا واقعہ اس کی ایک مثال ہے ۔ بطورِ متعلّم انھیں سکاچ مشن سکول ،مرےکالج سیالکوٹ،گورنمنٹ کالج لاہوراور لندن ،کیمبرج اورمیونخ جیسے اعلیٰ تعلیمی مراکزسے حصولِ علم کا تجربہ حاصل ہوا۔اور بطور ایک معلّم انھوں نے اورینٹل کالج لاہور ، گورنمنٹ کالج لاہوراور لندن یونی ورسٹی ،پھر ولایت سے واپسی پرمختصر عرصے کے لیےاسلامیہ کالج لاہوراور گورنمنٹ کالج لاہورمیں تدریسی خدمات انجام دیں۔ پنجاب یونی ورسٹی کے متعدد اداروں(سینٹ، سنڈیکیٹ،بورڈ آف سٹڈیز،ڈین)سے واابستہ رہے۔مختلف جامعات کے نصابات کی ترتیب میں مدد دی۔بطور ممتحن بھی کام کیا۔ یوں تعلیم کے بارے میں ان کے نظریات ذاتی مشاہدے،تجربے اور عمر بھر کےعمیق مطالعے کا نچوڑ ہیں۔اس طرح علامہ اقبال اصطلاحاً ایک educationistتھےاور واقعتاًبھی وہ ایک معلّم اور ماہرِ تعلیم تھے۔ علّامہ کے زمانے میںہندُستان میں دو طرح کے تعلیمی نظام رائج تھے۔اوّل:قدیم دینی مدارس کا نظام تعلیم۔ دوّم:جدید تعلیمی نظام جسےبرطانوی حکومت نے غلام ہندُستان میں رائج کیا تھا اور یہ مغربی فکروروایت پر اُستوار تھا۔ قدیم نظام ِ تعلیم اپنے دور کا جدید ،بہترین اور مکمل نظام تھا۔دینی تعلیم ان کے لیے روشنی کاچراغ تھی۔ایسا چراغ جو شاہراہِ حیات پر اُنھیں بھٹکنے سے بچاتا تھا۔معاش کی فراہمی کے لیے انھیں دستکاری،خوش نویسی،طِب اور جلدبندی جیسے ہنر سکھائےجاتے تھے۔شاہانِ وقت مدرسوں کی کفالت اور سرپرستی کرتے تھے۔ایک ہندو مورّخ اور فلاسفر دھرم پال جی (م: ۲۰۰۶ء) نے انگریزی میں متعدّد کتابیں تحریر کی ہیں۔ان کے حوالے سے اوریا مقبول جان لکھتے ہیں کہ دھرم پال جی نے تاریخی حقائق اور دستاویزی ثبوتوں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ بر عظیم پاکستان و ہند کا یہ خطّہ ، انگریزوں کی آمد سے پہلے، علم و عرفان، تہذیب و ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی اور اصولِ مدنیّت میں دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ تھااور اس ترقی کو انگریزوں نے ایک منصوبے اور بد نیّتی کے ساتھ تباہ و برباد کر دیا۔(روزنامہ ۹۲ نیوز۔لاہور، ۲۰؍ مارچ ۲۰۲۱ء) ـمغلوں کی حکومت نہ رہی تو مدارس تقریباََ اجڑ گئے۔مدارس کا نظام بے کسی کا شکار ہوگیا۔انگریزوں نے معاش کو جدید تعلیم سے وابستہ کر دیا تھا۔مدارس کے تعلیم یافتہ طلبہ کو نوکری نہیں ملتی تھی۔چنانچہ قدیم تعلیم رفتہ رفتہ زوال پذیر ہو گئی۔ تباہی کے اثرات دور رس تھے۔علما بسم اللہ کے گنبد میں بندہو گئے۔معاشرے نے بھی علما کوکمین اورکمی بنا دیا۔خود علما بھی فرقہ واریت کے مرتکب ہوئے۔علّامہ اقبال نے پیام مشرق کے دیباچے میں افراد اور اقوام کی باطنی تربیت پر زور دیامگر قدیم نظام تعلیم نہ تعمیر شخصیت وکردار کرتا ہے، نہ خودی کی پرورش، چنانچہ علامہ اقبال ملّا پرتنقید کرتے ہیں جو قدیم نظام تعلیم کا نمائندہ ہے: قوم کیا چیز ہے؟قوموں کی امامت کیا ہے؟ اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام (ضربِ کلیم ، ص ۳۷) اسی طرح کہتے ہیں: تری نماز میں باقی جلال ہے ،نہ جمال تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام (ضربِ کلیم ، ص ۳۶) ضربِ کلیم کی نظم ’’غلاموں کی نماز‘‘ اس سلسلے میں اقبال کے نقطۂ نظر کو واضح کرتی ہے۔ جہاں تک جدید نظام تعلیم کا تعلق ہے۔اس کے خاص مقاصد ہیں۔اس کی ترویج کے پس پردہ واضح سامراجی عزائم تھے۔ اس کی جڑیںمغربی فکر میں ہیں۔ اگرچہ ابتدا میںمقامی علوم و فنون اور زبانوں کے بارے میں انگریزوں کا رویّہ حوصلہ افزا تھا۔ (اردو کی ترقی کے لیے فورٹ ولیم کا لج کا قیام اور بعض قدیم مدرسوں کی سرکاری اعانت)لیکن جلد ہی لارڈ میکالے صاحب نےہندُستان میں ’’نزولِ اجلال‘‘ فرمایا، معروفِ زمانہ رپورٹ مرتب کی جس نے انگریزوں کےاصل عزائم کو واضح کر دیا ،یعنی اوّل :کلر کوں کی ایک فوج پیدا کی جائے۔دوّم:ماضی سے مسلمانوں کا ذہنی رشتہ منقطع کیا جائے۔ سوم: انھیں مذہب اور دین سے ممکنہ حد تک دور اور بیگانہ کر دیا جائے۔اکبر نے کیا خوب کہا تھا: مشرقی تو سرِ دشمن کو کچل دیتے ہیں مغربی اس کی طبیعت کو بدل دیتے ہیں یعنی انگریزوں نے جدید تعلیم کے ذریعے ہندُستانی باشندوں کی قلب ماہیت کر دی۔علّامہ اقبال نے خطبۂ علی گڑھ میں حسب ذیل شعر نقل کیا ہے: شیخ مرحوم کا قول اب مجھے یاد آتا ہے دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے جدید تعلیم نے
اقبال اور اقبالیات
علّامہ اقبال کے حینِ حیات اُن کی فکری و شعری انفرادیت اور عظمت کا اعتراف ہو چکا تھا۔حکیم محمد یوسف حسن نے ۱۹۳۲ء میںاپنے معروف علمی و ادبی جریدے نیرنگِ خیال کا ایک وقیع اقبال نمبر شائع کیا۔ اُس کی تقلید میںمختلف رسالوں کے آج تک۸۸۱سے زائداقبال نمبر شائع ہو چکے ہیں۔انٹرکالجیٹ مسلم برادر ہڈ کے تحت لاہور میں ۹ جنوری ۱۹۳۸ءکویوم ِ اقبال کا پہلا جلسہ منعقد ہوا،جو یوم ِ اقبال کے جلسوں کا نقطۂ آغاز تھا۔اُس وقت سے تاایں دم ، اقبال کی یاد میں اتنے جلسے منعقد ہوئے جن کا شمار قریب قریب ناممکن ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔۱۹۰۲ءمیں شیخ سر عبدالقادر نے اقبال پرپہلا مضمون خدنگِ نظر لکھنو میں شائع کیا۔۱۹۲۲ء میں نواب ذوالفقار علی خان نے اقبال پر پہلی کتاب The Voice of The Eastشائع کی۔اب تک۳۱ زبانوں میں اِس سلسلے کی ایک ہزارسات سو باون کتابیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر نکلسن نے ۱۹۲۰ء میں اسرارِ خودی کا پہلا ترجمہ The Secrets of the Selfشائع کیا۔اب تک دنیا کی اکتالیس زبانوں میں کلام ِاقبال کے تراجم پر مبنی ۵۲۷کتابیں چھپ چکی ہیں۔یوسف سلیم چشتی نے سب سے پہلے کلام ِاقبال کی شرحیں لکھنا شروع کیں۔ دنیا کی چار زبانوں میں کلام ِ اقبال کی ۱۸۶شرحیں لکھی اور شائع کی جا چکی ہیں۔جامعات میں تحقیقی مقالوں کی تعداد تقریباً بارہ سو ہے۔اِن کے علاوہ اقبال پر سیکڑوں متفرق کتابیں (بچّوں کے لیے کتابیں، سووینیر ،مصوّر کتابیں وغیرہ)ملتی ہیں۔اس طرح کتابوں ، کتابچوں اور مقالات کی کل تعداد ۵۹۸۵بنتی ہے۔ یوں ”اقبالیات“کے عنوان سے علم و ادب کا ایک نیا شعبہ وجود میں آ چکا ہےجس کی ترویج کے لیے مختلف ادارے (اقبال اکادمی پاکستان لاہور، بزم ِ اقبال لاہور،شعبۂ اقبالیات پنجاب یونی ورسٹی لاہور،شعبۂ اقبالیات علّامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد)مصروفِ عمل ہیں۔آپ کی یہ دو روزہ قومی کانفرنس بھی اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اِس کے اہتمام و انصرام کے لیے سرگودھا یونی ورسٹی کے وائس چانسلر اور متعلقہ افسران و کارکنان مبارک باد کے مستحق ہیں۔ گزارش ہے کہ اقبالیات کا فروغ اور ترویج ہمارا اسلامی ،ملّی اور قومی فریضہ ہے۔اسلامی اِس لیے کہ اقبال نے اسلام سے ہٹ کر کوئی نئی بات نہیں کی۔ملّی اِس لیے کہ اقبال نے ایک مستحکم پاکستان کا خواب دیکھا تھاجس کی تعبیر ابھی باقی ہے اور قومی اِس لیے کہ اقبال پاکستان کے قومی شاعر ہیںاور قوم کو اُنھیں فراموش نہیں کرنا چاہیے۔مجھے اُمید ہے کہ سرگودھا یونی ورسٹی اِس سلسلے میں ، جس حد اور جس جس انداز و اسلوب میں ممکن ہوا، رفیع الدّین ہاشمی ۱۵ نومبر ۲۰۲۱ء
چند لمحے ”کتابوں کی دنیا“ میں
٭اُردو کا مقدمہ:غازی علم الدّین اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے لیکن یہ برِ عظیم کے شعر و ادب کی ایک اہم زبان بھی ہے۔ اُردو زبان و ادب کا خاصا بڑا حصّہ ہندوؤں اور سکھوں( رتن ناتھ سرشار ،پنڈت دیا شنکر نسیم، لالہ سری رام ، رام بابو سکسینہ، منشی پریم چند،پنڈت برج نارائن چکبست، پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی،تلوک چند محروم،ہری چند اختر، آنند نارائن ملّا، منشی تیرتھ رام فیروز پوری، فراق گورکھپوری ،ڈاکٹر گیان چند ، دیوندر ستیارتھی، راجندر سنگھ بیدی، جگن ناتھ آزاد، کرشن چندر، کنہیّا لال کپور،گیان چند،اورگوپی چند نارنگ) نے تخلیق کیا ہے۔ اگر چہ گاندھی نے یہ کَہْ کر اُردو زبان کو مسترد کر دیا تھا کہ اس کا رسم الخط قرآنی رسم الخط ہے،اور پھر اُردو کے لیےدیوناگری رسم الخط اختیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ (جو بھارت میں تا حال جاری ہے۔)اس کے باوجود اُردو اپنے رسم الخط کےساتھ زندہ ہے۔ دراصل اُردو ایسی سخت جان ہے کہ بھارتی حکمران بھی اسے تاحال ختم نہیں کر سکے۔(کوشش اُن کی جاری ہے۔) پاکستان میں اگرچہ یہ مسلّمہ طور پر ملک کی قومی زبان ہے،اور جسٹس جوّاد خواجہ نے ۸ستمبر۲۰۱۵ء کو اردو کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا تھا، اس کے باوجود سرکاری ایوانوں میں اور ایک حد تک غیر سرکاری دفاتر اور اداروں میں بھی جملہ اُمور انگریزی زبان میں سرانجام دیے جا رہے ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے نفاذِ اُردو کا حکم دیا مگر اس کی توہین جاری ہے۔ہم اپنے گلے میں لٹکتا ہوا ذہنی غلامی کا طوق اتارنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ سات مقالات پر مشتمل پروفیسر غازی علم الدّین کےزیرِ نظر مجموعے میں اُردو کی اہمیت، اُس کی مخالفتوں، تعلیمی نصابوں سے اس کے اخراج اور بھارتی حکمرانوں کی طرف سے اُردو کو بھارت سے مکمل طور پر ملک بدر کرنے کی کوششوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ برِ عظیم میں اُردو کی ابتدا ، اُس کے ارتقا اور موجودہ صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ابتدا میں انگریزوں نے فارسی کی جگہ اُردو کو عدالتی زبان بنا دیا تھا مگر ہندوؤں کو یہ بات پسند نہ آئی ۔ چنانچہ ۱۸۶۷ء میں یوپی کے ہندوؤں نے اُردو کے خلاف تحریک چلائی کہ اُردو کی جگہ ہندی کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا جائے اور اسے دیوناگری رسم الخط میں لکھا جائے۔ سرسیّد احمد خان پہلے مسلمان دانش وَر ہیں جن کی بصیرت نے ہندوؤں کے لسانی تعصّب کے دور رس اثرات کا اندازہ لگا لیا اور بڑے افسوس کے ساتھ کہا تھاکہ اَب ہندوؤں اور مسلمانوں کی جانب سے کسی مشترکہ عمل کی کوئی اُمّید باقی نہیں رہی۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ سر سیّد کا اندازہ سو فیصد صحیح تھا۔ پروفیسر غازی علم الدّین اُردو کا مقدمہ اِس لیے لڑ رہے ہیں کہ اُردو کا تعلق برّ ِ عظیم کے مسلمانوں ، تحریکِ آزادی اور قیام ِ پاکستان سے بہت گہرا اور دیرینہ رہا ہےاور اب استحکام ِ اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے لیے بھی اُردو کا نفاذ ناگزیر ہے۔ کتاب کی طباعت و اشاعت معیاری ہے۔ (ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد۔ قیمت: ۴۰۰ روپے( ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭سلسلۂ مکاتبت (رشید حسن خاں اور مشفق خواجہ کی دو طرفی مراسلت):ڈاکٹر محمود احمد کاوش حالیہ برسوں میں مکاتیبی ادب کے سلسلے میں بیسیوں مجموعے سامنے آئے ہیں۔ زیرِ نظر مجموعہ سلسلۂ مکاتبت (رشید حسن خاں اور مشفق خواجہ کی دو طرفی مراسلت) اسی سلسلے کی ایک تازہ اور اہم کڑی ہے۔ رشید حسن خاں(۱۹۲۵ء -۲۰۰۶ء)اور مشفق خواجہ (۱۹۳۵ء-۲۰۰۵ء)اُردو زبان و ادب کے ناموَر عالم، نقّاد اور محقق تھے۔اگر اُردو زبان و ادب کو ایک محل قرار دیا جائے تو مشفق خواجہ اور رشید حسن خاں اِس محل کے دو اہم ستونوں میں شمار ہوں گےجن پر اُردو محل کی خوبصورت عمارت استوار ہے۔ دونوں بزرگوں کے خطوط کے چند مجموعے اِس سے پہلے بھی چھپ چکے ہیں، جیسے : مکاتیبِ مشفق خواجہ بنام رفیع الدّین ہاشمی۔خطوطِ مشفق خواجہ بنام ڈاکٹر طیّب منیر۔مکتوباتِ مشفق خواجہ بنام ڈاکٹر مختار الدّین احمد۔مکتوباتِ مشفق خواجہ بنام نظیر صدیقی۔مراسلت مشفق خواجہ، صدیق جاوید۔رقعاتِ مشفق خواجہ[بنام ڈاکٹر سلیم اختراورطاہرتونسوی]اور باتیں مشفق خواجہ کی[خطوط بنام تحسین فراقی]۔اِسی طرح رشید حسن خاں کے خطوط بھی کئی مجموعوں میں مدوّن کیے گئے ہیں، مثلاً: ہمہ رنگ بنام محمد اسد اللہ ، مکاتیبِ رشید حسن خاں بنام رفیع الدّین ہاشمی۔ ٹی آر رینا نے تین جلدوں میں رشید حسن خاں کے خطوط مرتّب کیے ہیں۔اِن تین جلدوں میں خطوں کی تعداد ۱۸۷۵ ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں رشید حسن خاں کے ۱۰۵ خطوط بنام مشفق خواجہ اور مشفق خواجہ کے ۸۱ خطوط بنام رشید حسن خاں شامل ہیں۔ اِس طرح یہ مجموعہ کل ۱۸۶ خطوط پر مشتمل ہے۔ مشفق خواجہ کے چھوٹے بھائی جناب عبد الرحمان طارق نے چند برس قبل راقم کو خواجہ صاحب اور خاں صاحب کے یہ خطوط عنایت کیے تھے۔ اس خواہش کے ساتھ کہ میں انھیں مرتّب کر دوں لیکن افسوس ہے کہ راقم اپنی مصروفیات کی وجہ سے یہ کام انجام نہ دے سکا۔ ڈاکٹر محمود احمد کاوش مبارک باد کے مستحق ہیں کہ اُنھوں نے یہ بھاری پتھر اُٹھا لیااور یہ مجموعہ نہایت محنت اور عرق ریزی سے مرتّب کر دیا۔خطوں کا متن دونوں مکتوب نگاروںکے اپنے اپنے اصولِ املا میں لکھا گیا ہے۔دونوں کے اُصولِ املا پر کاوش صاحب نے اپنے طویل مقدمے(ص ۱۷-۹۴) میں بحث بھی کی ہے۔ خطوں پر مختصر پاورق حواشی بھی لکھے ہیں اور آخر میں چند خطوں کے عکس بھی دیے ہیں۔ اِس طرح یہ کتاب تدوینِ خطوط کا نہایت عمدہ نمونہ ہے۔ ان خطوں میں لسانی اور ادبی بحثیں بھی ہیں، دونوں کے شخصی اور ذاتی حالات اور احساسات و جذبات بھی ہیں اور خطوں سے دونوں کے ذوق اور افتادِ طبع اور دونوں کے ہاں مطالعے کی وسعت کا بھی پتا چلتا ہے۔ مختصر یہ کہ یہ مجموعہ نہایت دلچسپ اور اس قابل ہے کہ ادبی ذوق رکھنے والے خواتین و حضرات اس کا مطالعہ کریں۔ (فضلی بکس پبلشرز کراچی ،صفحات:۵۵۱،قیمت : ۱۲۰۰روپے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭صحتِ زباں :ڈاکٹر رؤف پاریکھ زبانیں جوں جوں پھیلتی ہیں، اُن میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور اُن میں وسعت بھی
داستانے از دکن آوردہ ام
(بھارت کا ایک سفر) میری عمر کے پاکستانیوں نے جب ہوش سنبھالا اور برعظیم کی تاریخ کا مطالعہ کیاتوعمر کے ساتھ، جوں جوں مطالعہ وسیع ہوتاگیا،بھارت میں مسلم آثار کو دیکھنے کا شوق بھی بڑھتاگیا کیوں کہ مسلمانوں نے ہندوستان پر اپنے سیکڑوں سالہ دورِ حکومت میں یہاں کے چپے چپے پر اپنی تہذیب وثقافت اورحکمرانی کے نقوش ثبت کیے۔ قلعے،مسجدیں،مقبرے،مزار، محلات، عمارات، کنویں اورباولیاں،سڑکیں اورشاہراہیں،پھررسوم ورواج،ادب وآداب، طوراطوار، لباس اور پوشاک، کھیل اورتماشے، میلے ٹھیلے۔ غرض زندگی کاکوئی شعبہ ایسا نہیں جو اب بھی مسلمانوں کے اثرات سے خالی ہو۔ انگریزوں نے دلّی پرقبضہ مستحکم ہونے کے بعد مسلم عہد حکومت کی بہت سی عمارتوں،مسجدوں اور مقبروں کو گرا دیا، اس کے باوجود دلّی میں اب بھی مختلف ادوار کی چھوٹی بڑی بیسیوں بلکہ شاید سیکڑوں یادگاریں باقی ہیں۔ (گو،موجودہ بھارتی حکومت کی اشیر باد سے بعض لوگ اورپارٹیاں بابری مسجد کے انہدام کے بعد باقی آثار اور یادگاروں کو بھی مٹانے کے در پے ہیں۔ ) لیکن مجھ ایسوں کے لیے بھارت کے سفر میں طرح طرح کی رکاوٹیں اورمجبوریاں حائل رہیںاور۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد اُن پابندیوں میں مزید اِضافہ ہوتاگیا۔ کئی سال بعد۱۹۸۶ء میں اقبال اکیڈمی حیدرآباد دکن کی طرف سے عالمی اقبال سیمی نار میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ اس پہلے دعوت نامے کے بعد، ایک ایک دو دو سال وقفوں سے ادبی کانفرنسوں اورسیمی ناروں کے دعوت نامے ملنے لگے۔ ۱۹۸۶ء سے اب تک تیس اکتیس برسوں میں تقریباً تیس دعوت نامے ملے ہوں گے جو مختلف شہروں سے تھے۔ دہلی، علی گڑھ،احمدآباد، حیدرآباد، پٹنہ، کلکتہ، بنگلور، رائے بریلی،اعظم گڑھ اورلکھنؤمگر افسوس ہے کہ میں صرف دوبار بھارت جاسکا۔ اور ان دوسفروں میں بھی صرف تین ہی شہروں (دہلی، حیدرآباداوربھوپال) کی زیارت کرسکا۔ سب سے زیادہ قلق سری نگر نہ جاسکنے کا ہے۔ سری نگر کے ذکر سے تصور میں کشمیر کی وادیوں ،کوہساروں اور جھیلوں کی تصویریں بننے لگتی ہیں اور اقبال کا یہ شعر ذہن میں گونجنے لگتا ہے : پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب مرغانِ سحر تیری فضائوں میں ہیں بے تاب دراصل نادیدہ کے تصور میں بھی ایک رومان ہوتا ہے۔’’ آتش چنار‘‘ کا نظارہ تو ہم نے ایبٹ آباد میں کیا اور باربار کیا۔(یہ کئی سال پہلے کی بات ہے)مگر’’ وادیِ لولاب‘‘ کیسی ہو گی۔۔۔۔۔۔؟شاید شمالی علاقہ جات کے بعض مناظر کی طرح۔۔۔۔۔۔۔،مگر نہیں، ان سے فزدں تر۔علامہ اقبال کو فقط ایک ہی بار کشمیر جانا نصیب ہوا مگر ان کی ساری عمر کشمیر کو’’کسی بہانے تمھیں یاد کرنے لگتے ہیں ‘‘کی کیفیت میں گزری ۔کلامِ اقبال کوپڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ حینِ حیات کسی نہ کسی عنوان یا کسی نہ کسی حوالے سے(سا قی نامہ۔کشمیر۔غنی کاشمیری۔ملا ضیغم لو لابی کی بیاض۔ آبِ ولر۔آتشِ چنار ۔وادیِ لو لاب۔ایرانِ صغیر ۔سیاہ چشمانِ کشمیری۔پیرکِ اندرابی ۔ولر کے کنارے ۔خطّۂ گل) وہ کشمیر کو یاد کرتے رہے۔ اقبال اکیڈمی کے مذکورہ بین الاقوامی سیمی نار میں سات حضرات(ڈاکٹر جاوید اقبال ،پروفیسرمرزامحمدمنور،ڈاکٹر جمیل جالبی،عبدالرؤف عروج،انتظار حسین،ڈاکٹر معین الدین عقیل اور راقم) مدّعو تھے مگر صرف عقیل صاحب اور راقم ہی شریک ہو سکے البتہ اقبال کاسیاسی کارنامہ کے مصنف محمد احمد خاں اورمعروف سیرت نگار مصباح الدین شکیل صاحبان اپنے طور پر حیدر آباد گئے تھے اور سیمی نار میں شریک ہوئے۔ ۱۵؍اپریل۱۹۶۸ء :میں تقریباً نو بجے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔ پلیٹ فارم پُرہجوم اور افراتفری ۔ مسافر زیادہ ،جگہ کم۔برادرم تحسین فراقی اپنے ایک دوست فاضل صاحب کو ساتھ لائے تھے۔ان کی وساطت سے امیگریشن اور کسٹم کے مراحل آسان۔ پاسپورٹ پر Exitکی مہرلگنے کے بعد،میں ریل کے درجۂ اوّل میں بیٹھ گیا۔ سامان ایک درمیانے سے اٹیچی اور کتابوں کے دوکارٹنوں پرمشتمل تھا۔ ساڑھے گیارہ بجے مسافر آنابند ہوگئے۔لوگ مع سامان بہت آچکے تھے۔ بچے اور بچیاں ،جوان اوربوڑھے،باپردہ خواتین( بعض صرف بادوپٹہ) ،ان کے ساتھ چھوٹے بڑے اٹیچی، گٹھڑیاں بلکہ بڑے بڑے گٹھڑ اور ساتھ ہی چیخ پکار ،شوروغوغا،بہت ذہنی کوفت ہوئی۔ ٹی ٹی نے ازراہِ کرم مجھے متصل کوپے میں بٹھا دیا جو کسی سابق ریلوے افسر کے لیے مخصوص تھا۔اس میں کل پانچ افراد تھے۔ریل تقریباً ایک بجے روانہ ہوئی اورتین چار گھنٹے کایہ عرصہ اخبارات و رسائل پڑھنے، اونگھنے اور جمائیاں لینے(رات دیر سے سویا تھا اور صبح بہت جلد اٹھ گیا۔ سفر میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے) اورپلیٹ فارم پرآنے والے مسافروں کے مشاہدے میں گزرا۔ ریل،لاہور ریلوے اسٹیشن سے چلی توواہگہ سے آگے دائیںبائیں درختوں کے جھنڈ اورپکی ہوئی گندم کے سنہری کھیت دور تک چلے گئے تھے۔ ایک جگہ کھیتوں میںسُؤروں کے ریوڑ نظر پڑے۔ریلوے افسر کی بیوی نے منہ بنا کر ناک کے آگے پلّو رکھ لیا۔ پتا ہی نہیں چلاکہ ہم حدودِوطن سے نکل کر بھارت میں داخل ہو گئے ہیں۔ تقریباً ایک گھنٹے میں ریل گاڑی اٹاری جاکھڑی ہوئی۔ بھارت کا یہ پہلا سفر تھا مگر بھارتی سرزمین پر،میں دوسری بار قدم رکھ رہاتھا۔ یہ الگ قصہ ہے:مختصر یہ کہ۱۹۶۵ء کی سترہ روزہ جنگ کے بعدجنگ بندی (ceasefire)ہوئی توبھارتی قصبہ کھیم کرن(بعض روایات کے مطابق مولاناابوالکلام آزادکی ولادت اسی قصبے میں ہوئی،مگراُن کے مدّاحین اس کی تردید کرتے ہیں۔) پاکستانی فوج کے زیرِ قبضہ تھا۔ ہمیں وہاں جانے اور گھومنے پھرنے کا موقع ملا۔اب اٹاری اترتے ہوئے،گویامیں بھارت کی سرزمین پردوسری بارقدم رکھ رہاتھا۔حکم ہوا:مسافر،ریل سے سامان اتار کرپلیٹ فارم پررکھ دیں،ریل خالی کردیں۔ دلّی سے لاہور آنے والی ریل ابھی نہیں پہنچی تھی۔ لمبی لمبی قطاریں ۔پہلے گیٹ پاس،پھر نمبر لگا،پھر ہیلتھ کی مہر،ناواقفوں سے ۵،۱۰ روپے ہتھیا لیے۔ایک جگہ پاسپورٹ کا اندراج ،۲۰ روپے رکھوا لیے۔یہ سب’’ غیر سرکاری‘‘ فنڈ۔ ایک سردار جی سامان کی پڑتال کر رہے تھے۔ قطارمیں لگا،باری آئی تو کتابوں کے ڈبّے میز پر ان کے سامنے رکھ دیے ۔ ’’کیہ اے ایِناں وچ؟‘‘ ’’کتاباں۔‘‘ ’’اچھا،کھولو،وِکھائو۔‘‘ وِیکھ کر کہنے لگے :’’اینیاں کتاباں؟‘‘ میں نے کہا :’’دوستاں لئی لے جا ریا واں،تحفہ تحائف اے ‘‘ کچھ ردو قدح کے بعد کتابیں ’’پاس ‘‘ہو گئیں ۔ مجھے مشفق خواجہ یاد آگئے ہیں ۔ شاید ۱۹۸۷ء میں مشفق خواجہ اور ان کی بیگم بھارت کے دورے پر گئے۔تاریخی آثار دیکھنے کے ساتھ ساتھ وہ کتابیں بھی جمع کرتے رہے۔کچھ تحفے میں ملیں بہت سی خریدیں۔تقریبادس بارہ بوریاں کتابوں کی بن گئیں۔اب یہ پاکستان لے جائیں تو کیسے؟ہوائی جہاز میں تو ہزاروں
شمس الرحمن فاروقی :باتیں اور یادیں
(تحریر: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ) فاروقی صاحب سے پہلی ملاقات حیدر آباد دکن کے اقبال سیمی نار(19۔20،اپریل 1986ء) میں ہوئی ۔ سیمی نار میں ان سے گفتگو کرنے اور ان کی باتیں اور تقریریں سننے کا موقع ملا۔ دوسرے روز وہ حیدر آباد سے واپس جانا چاہتے تھے لیکن راقم کا مضمون سننے کے لیے کچھ دیر رکے رہے ۔جونہی مضمون ختم ہوا، وہ اٹھ کر چل دیے۔آئندہ برسوں میں فاروقی صاحب سے دو تین خطوں کا تبادلہ ہوا۔ 2004ء میں وہ اقبال اکادمی پاکستان کی دعوت پر پاکستان آئے۔ اس دورے میں انھوں نے How to read Iqbal کے موضوع پر اکادمی میں ایک مفصّل لیکچردیا ۔ لاہور میں ان کے اعزاز میں متعددّ تقریبات منعقد ہوئیں۔ایک تقریب کا اہتمام ڈاکٹر تحسین فراقی صدر شعبۂ اردو نے سینٹ ہال پنجاب یونی ورسٹی میں کیا ۔ایک اور تقریب گورنمٹ کالج یونی ورسٹی میں منعقد ہوئی۔ فاروقی صاحب اردو اور انگریزی کے بہترین مقرر تھے۔راقم کو متعدد بار ان کی اردو اور انگریزی تقریریں سننے کا موقع ملا۔ اردو تو ان کی مادری زبان تھی۔اوائل عمر ہی سے انھیں انگریزی پر بھی دسترس حاصل تھی۔کراچی کے ظہیر خان جمنا کرسچین کالج الٰہ آباد میں فاروقی صاحب کے کالج فیلو تھے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ 1965ء میں فاروقی صاحب کو اپنے مادرِ علمی میں کسی جلسے میں بطورِ مہمان خصوصی بلایا گیا۔سفید شیر وانی اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس تھے۔ لگ رہاتھا کوئی شاعر ہیں مگر انھوں نے انگریزی میں ایک دھواں دھار تقریر کی تو سارے طالب علم ششدررہ گئے کہ شیروانی پہن کر بھی اتنی اچھی انگریزی بولی جا سکتی ہے ۔ ذکر تھا ان کے 2004 ء کے دورۂ پاکستان کا ۔ نوائے وقت نے ان سے ایک خصوصی مکالمے کا اہتمام کیا۔ عمران نقوی میزبان تھے اور پینل میں عزیز ابن الحسن ،ضیاء الحسن اور جعفر بلوچ کے ساتھ راقم بھی شامل تھا۔بھارت میں اُن کے مصاحبوں پر مشتمل کتاب فاروقی محوِ گفتگو شائع ہوئی تھی ،معلوم نہیں اس میں یہ انٹرویو شامل ہے یا نہیں؟ 2007ء یا 2008ء میں وہ فیض سیمی نار میں شرکت کے لیے لاہور آئے۔ لمز میں قیام پذیر ہوئے۔ انھوں نے سیمی نار میں کلام فیض کی ہمہ نوع خامیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کی۔ ترقی پسندوں کو صدمہ ہوا۔ زاہدہ حنا کو زیادہ ہی رنج ہوا۔فراقی صاحب بتاتے ہیں کہ وہ رونے لگیں ۔فاروقی صاحب نے کہا: میں تو عرصے سے اس طرح کی باتیں کرتا چلا آ رہا ہوں۔ یہ علمی معاملہ ہے۔ اس میں ذاتیات کا دخل نہیں۔ 2010ء میں وہ لاہور آئے۔ قیام لمز ہی میں تھا۔نوائے وقت میگزین کے انچارج صاحب(نام بھول گیا) اُن سے انٹرویو لینا چاہتے تھے۔فاروقی صاحب اُن سے واقف نہ تھے۔انچارج صاحب نے مجھے ذریعہ بنایا۔ میں نے فاروقی صاحب سے وقت لیااور اُنھیں لے کر پمز پہنچا۔کہنے لگے: صرف15، 25 منٹ۔۔۔ خیر ، سوال جواب ہونے لگے۔ تقریباً پون گھنٹا انٹرویو ہوتا رہا۔ نوائے وقت میگزین میں چھپا۔ افسوس ہے اس کی نقل محفوظ نہ رہ سکی۔ 2010ء میں راقم نے اُنھیں حسبِ ذیل کتابیں بھیجیں: ۱۔ مکاتیب مشفق خواجہ بنام رفیع الدین ہاشمی ۲۔ مکاتیب رشید حسن خاں بنام رفیع الدین ہاشمی(مرتب :ڈاکٹر ارشد محمودناشاد) ۳۔ سیّد ابوالاعلیٰ مودودی بحیثیت نثر نگار (محمد اصغر جاوید) جواباً انھوں نے 7 جون کے خط میں حسبِ ذیل تبصرہ کیا: ’’مشفق خواجہ اور رشید حسن خاں کے خطوط میں نے سب پڑھ ڈالے۔ آپ کے حاشیے نہایت عمدہ ہیں۔ ارشد محمود صاحب نے اتنے اچھے حاشیے نہیں لکھے۔ خیر۔ مولانا مودودی پر کتاب اِدھر اُدھر سے دیکھی۔ سوانحی حصّہ زیادہ توجّہ سے پڑھا۔ کام بہت بڑا اور قابلِ قدر ہےلیکن اب مجھے مولانا کے افکار سے دلچسپی نہیں رہ گئی۔ کبھی دلچسپی تھی اس وقت یہ کتاب ملتی تو حرزِ جاں بنا لیتا۔ مجھے ان کی کتابوں میں خلافت و ملوکیت سب سے زیادہ قابلِ قدر اور اہم معلوم ہوتی ہے۔ لیکن میں مولانا کے میدان یعنی اسلامیات اور اسلام بطور تحریکِ حیات ، میں دخل در معقولات دینے کا استحقاق نہیں رکھتا۔ مشفق خواجہ کے خطوط دلچسپ ہیں اور آپ کے حواشی نے انھیں یادگار بنا دیا ہے۔ مشفق خواجہ اور آپ دونوں کے علم کی وُسعت اور تجربے سے واقف تھا، لیکن ان مکتوبات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ ان کی شخصیت میں علم اور ذوقِ علم کے سوا کچھ تھا ہی نہیں۔ رشید حسن خاں کے مکاتیب زیادہ تیکھے اور زیادہ ذاتی ہیں۔ ان کی شخصیت اور علمیت دونوں ہر جگہ عیاں ہیں۔ مشفق خواجہ کے خطوط پر آپ کے حاشیے میرے لیےیوں بھی بہت کارآمد نکلے کہ آپ نے ان لوگوں کی تاریخِ ولادت اور وفات درج کرنے کا اہتمام کیا جن کے نام ان خطوط میں وارد ہوئے ہیں۔ یہ کام اردو والے تو تقریباً بالکل نہیں کرتے۔ غیر زبانوں میں بھی اتنا اہتمام کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ میں ایک تاریخ نامہ Date List مرتب کرتا رہتا ہوں ، نہایت سادہ، صرف تاریخِ ولادت اور موت، اور تعارف میں صرف ایک لفظ ۔ کئی نام میں نے اپنی فہرست میں آپ کے حواشی سے لے کر اضافہ کیے۔ لیکن بعض ناموں کے سلسلے میں الجھن بھی ہوئی کیونکہ آپ کی درج کردہ تاریخوں اور میری درج کردہ تاریخوں میں تفاوت نظر آیا۔‘‘ فاروقی صاحب نے جو گوشوارہ بھیجا تھا ۔راقم نے، اس کی روشنی میں تاریخیں درست کر لیں۔ ڈاکٹر کبیر احمد جائسی (16 نومبر 1934ء- 7جنوری 2013ء)اردو اور فارسی کے عالم اور سکالر تھے۔ جناب شمس الرحمن فاروقی کو جائسی سے خصوصی تعلق ِخاطر تھا۔ اس کا اندازہ جائسی کے نام ان کے خطوں کے مجموعے (شمس کبیر۔القرطاس کراچی، 2004ء) سے ہوتا ہے ۔مجھے ان کی وفات کی خبر ڈاکٹر نگارسجاد ظہیر صاحبہ نے دی۔ جائسی مرحوم ،نگار صاحبہ کے ماموں تھے۔ میں نے فون پر نگار صاحبہ سے تعزیت کی اور دوسرے دن فاروقی صاحب کو بھی برقی ڈاک سے تعزیتی خط روانہ کیا۔ اسی روز ان کا حسب ذیل جواب موصول ہوا: Dear Brother Rafiuddin Hashmi, Yes, It was a great shock. The New Year has not begun well for us who lost numerous major writers in 2012. Yes,
نصیر احمد بٹ صاحب
تاریخ پیدائش: 15دسمبر1941 مولد:تیجہ کلاں گورداسپور ۔ والد: عبد الغنی چھ بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ہجرت:1947میں اپنے والدین، چھوٹی بہن اور پانچ بڑے بھائیوں کیساتھ خاک و خون کا دریا عبور کرتے ہوئے نارووال کے قصبہ بدوملہی میں آباد ہوئے۔ تعلیم: بچپن میں ہی اپنے چچا حکیم عبدالرحمٰن خلیق مرحوم سے ترجمہ قرآن پڑھا۔ گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول بدوملہی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ۔ بدو ملہی کو قادیانیوں کے غلبے کیوجہ سے ربوہٰ ثانی بھی کہا جاتا ہے 1952 میں گیارہ سال کی عمر میں قادیانیوں کی عبات گاہ کے تھڑے پر کھڑے ہو کر ختم نبوت پر تقریر کر کے اپنے قصبہ میں قادیانیوں کیخلاف تحریک کا آغاز کیا اور اپنے بزرگوں اور بھائیوں کیساتھ مل کر قصبہ میں موجود واحد سکول جو کہ قادیانیوں کے زیر انتظام تھا کے مقابلے میں مسلمانوں کے اسلامیہ اسکول کے قیام کی تحریک چلائی تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفےٰؐ اور مارشل لاء کیخلاف تحریک میں سرگرم حصہ لیا٠ دورانِ تعلیم علامہ اقبال اور سید مودودی کے مرید بنے۔ اقبال کےاردو کلام کے علاوہ فارسی کلام کا مطالعہ کیا برسوں مولانا مودودی کے مبارک مسجد کے درس اور ذیلدار پارک اچھرہ کی عصری محافل سے علم وعمل کے موتی سمیٹتے رہے۔ مولانا مودودی کے سارے لٹریچر کا مطالعہ کیا اور مرتے دم تک تفہیم القرآن کے روزانہ مطالعہ کا معمول جاری رہا، DYF کے سرگرم کارکن رہے روزگار: میٹرک کے بعد 1958 سے سرکاری ملازمت کے سلسلہ میں لاہور میں رہے۔ رزقِ حلال کیلئے ملازمت کیساتھ ساتھ زرعی اجناس کی تجارت کرتے رہے۔ اچھے تیراک تھے سیلاب میں کئی افراد کی جانیں بچائیں اور جماعت اسلامی کے رفاعی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا 1973 میں فیملی کیساتھ وحدت کالونی لاہور میں شفٹ ہو گئے سرکاری کوارٹر پر بھی جماعت اسلامی کا جھنڈا لگا کر رکھا توحید باری تعالیٰ پر غیر متزلزل یقین تھا لین دین کے بہت کھرے تھے یہاں تک اکبری منڈی کے تاجروں کو کہہ رکھا تھا کہ اگر میں آپ کو مقررہ دن پر ادائیگی کیلئے نہ پہنچ سکوں تو مجھے فون کرنے کی بجائے منصورہ آ کرمیرا نمازِ جنازہ پڑھ لینا اور میرے بیٹے سے اپنی رقم وصول کر لینا۔ اللہ کری نے انکے لین دین کے کھرے پن کی اسطرح لاج رکھی کہ وفات سے چند دن پہلے منصورہ مسجد کے ایک نمازی کیلئے اپنے ایک دوست سے پچاس ہزار کی رقم ادھار لی، وفات سے چند دن پہلے بیماری کیوجہ سے یاد داشت کھو بیٹھے تھے اس دوران جیسے ہی طبعیت بہتر ہونے سے یادداشت بحال ہوئی تو فوراً اپنے دوست کو واپس بلایا اور اسے رقم واپس لوٹائی۔ مستحق عزیز و اقارب کا خیال رکھتے اور بیوہ خواتین کی مدد کرتے تھے۔ اولاد: تین بیٹے۔ علامہ محمد اقبال رح اور مولانا مودودی رحمہ اللہ علیہ سے عشق تھا سید منور حسن رحمہ اللہ اور ابوالشہداء ملک نواز صاحب سے بوجہ للہ عقیدت رکھتے تھے تاریخ وفات: 31 اکتوبر 2021 سید کی عصری مجالس کی روداد گھر آکر سناتے تھے سید کی تفہیم القرآن اور تقریباً ساری کتب گھر پر موجود تھیں۔ ہماری والدہ مرحومہ نے بھی قرآن پاک کا ترجمہ پڑھا ہوا تھا اور گھر پر بچیوں کو ناظرہ اور ترجمہ قرآن پڑھاتی تھیں۔ ہم نے جب ہوش سنبھالا تو والد و والدہ کو قرآنی مضامین پر مباحث میں مشغول پایا۔ منصورہ مسجد سے دلی لگاو تھا روزانہ مسجد سے گھر آ کر بچوں سے مولانا عبدالمالک حفظہ اللہ کے دروس اور قرآن کلاس کے موضوعات پر گفتگو کرتے اور قرآنی معلومات کے سوالات پر انعام دیتے۔ مبالغے کی حد تک دوسروں کا خیال رکھتے تھے بچوں سے بہت شفقت کرتے تھے۔ اپنے ہاتھ سے کھانا پکا کر کھلانے کا شوق تھا ہر سال سردیوں میں اپنے بیٹے کے جمعیت کے دوستوں کی اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے ہریسہ اور عید قربان کیبعد بونگ نہاری سے تواضع کرتے تھے۔ سب سے بڑے بھائی عبدالغفور مرحوم سے متاثر ہو کر سید مودودی رح کے مرید بنے۔ عبدالغفور مرحوم نے تقسیم سے قبل پٹھانکوٹ میں جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور تادم مرگ مقامی جماعت کے امیر رہے(قادیانیوں کے مقابلے میں بنایا جانیوالا اسکول بعد میں گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج کی حیثیت اختیار کر گیا تایا جان کے بڑے بیٹے جاوید مرحوم اس کے پرنسپل بنے، دوسرے نمبر کے بیٹے عبدالشکور بدو ملہی مقامی جماعت کے امیر اور پوتا ذوالقرنین ضلع نارووال یوتھ کا راہنما اور قادیانیوں کیخلاف تحریک کا روح رواں ہے) گھریلو زندگی 1969 میں شادی ہوئی۔ انتہائی تابعدار اور نیک بیوی ملی۔ اور مرحوم خود بھی ارشاد نبوی تم میں سے بہتر وہ ہے ۔۔۔۔کی عملی تصویر تھے۔ زندگی بھر خیر کے کاموں میں تعاون پر مرحوم اہلیہ کا ذکرِ خیر کرتے رہے۔ خاندان اور محلے بھر کے بچوں سے بہت محبت سے پیش آتے۔ نمایاں خوبیاں: عقیدہ توحید ، لین دین میں کھرا پن، انسانیت کی خدمت،مستقل مزاجی۔ جمعیت کے نوجوانوں کو جیل میں کھانا پہنچاتے۔ ان سے محبت و الفت سے پیش آتے۔
مشفق خواجہ کوئی اور نہیں
ادب کی دنیا میں اعتراف (recognition) آج کے ادیب اور شاعر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ہم سب اِلَاماشاء اللہ،اسی انسانی کمزوری کا شکار ہیں۔ جو کچھ ہم لکھتے ہیں، اس پر ہمیں داد ملنی چاہیے۔ اگر کتاب چھپے(اور کیوں نہ چھپے بلکہ اگر ہر سال ایک نئی کتاب چھپے توکیا خوب ہے!)فلیپ پر تعریفی کلمات، ایک تحسینی دیباچہ، چند توصیفی تقریظیں۔ پھر اخبارات و رسائل میں کچھ تبصرے، ایک دو شہروں میں بلکہ اگر ہوسکے تو بیرونِ ملک اُردو کی نئی بستیوں میں تقریباتِ اجرائی و رونمائی۔ صاحبِ کتاب کے بارے میں کسی ادبی رسالے کا خاص نمبر یا گوشہ ہی سہی۔ اگر صاحبِ کتاب شاعر ہیں تو ان کا بلند پایۂ کلام ریڈیواور ٹیلی ویژن سے نشر بھی ہونا چاہیے۔ اب صاحبِ کتاب کو، اس کتاب پر کوئی ادبی ایوارڈ بھی ملے اور ”صدارتی تمغائے حسنِ کارکردگی“ کی خواہش تو بالکل فطری ہے۔ مشفق خواجہ ان سب باتوں سے بے نیاز بلکہ نفورتھے۔ خواجہ صاحب ایک مہذّب، مستغنی اور شائستہ انسان تھے۔ انھوں نے اس درجہ اپنی تہذیبِ نفس کرلی تھی کہ وہ ہر طرح کے نام و نمود، جاہ و منصب اور مال و منال کی ہر خواہش سے بے نیاز ہوچکے تھے۔ علّامہ اقبال کا یہ مصرع ان پر صادق آتا ہے: ایّام کا مرکب نہیں، راکب ہے قلندر ہماری بعض جامعات میں، زندہ شخصیاتِ ادب پر سندی مقالے لکھوانے کی روایت موجود ہے۔ خواجہ صاحب ہر اعتبار سے اس کا استحقاق رکھتے تھے کہ ان کے علمی و ادبی کارناموں کو موضوعِ مقالہ بنایا جائے، مگر وہ اسے پسند نہیں کرتے تھے کہ ان پر کچھ لکھا جائے۔ وہ علمی و تحقیقی کام کرنے والوں کی ممکنہ حد تک اور خوش دلی کے ساتھ مدد کرتے،مگر اپنے معاملے میں وہ کسی طرح کا تعاون کرنے سےصاف انکار کردیتے تھے۔۲۰۰۱ء کی بات ہے کہ پروفیسر تحسین فراقی صاحب نے اپنے ایک شاگرد حافظ محمد قاسم (متعلم ایم اے اردو، اورینٹل کالج لاہور) کے تحقیقی مقالے کا موضوع تجویز کیا:”مشفق خواجہ بطور مدوّـن۔“ خواجہ صاحب تک یہ خبر پہنچی تووہ فراقی صاحب سے خفا ہوئے۔ فراقی صاحب نے تو یہ موضوع میرٹ پر تجویز کیا تھااور خواجہ صاحب بہرحال اس کا استحقاق رکھتے تھےمگر خواجہ صاحب کا خیال تھا کہ لوگ اسے ”حقِ دوستی“ پر محمول کریں گے۔ (یہ معلوم ہے کہ خواجہ صاحب، فراقی صاحب کو بہت عزیز رکھتے تھے اور اس مقالے کے نگران اورنگ زیب عالمگیر صاحب سے بھی خواجہ صاحب کو خاص تعلقِ خاطر تھا۔) بایں ہمہ مقالہ نگار نے اپنا کام جاری رکھا۔ ڈاکٹر اورنگ زیب عالمگیر صاحب نے خواجہ صاحب کے برادرِ بزرگ خواجہ عبدالقیوم اور بعض دیگر عزیزوں سے رابطہ قائم کیا تاکہ مقالے کے باب اوّل کے لیے، خواجہ صاحب کے کچھ سوانحی حالات معلوم کیے جائیں۔ خواجہ عبدالقیوم اپنے چھوٹے بھائی کے مزاج سے واقف تھے، اس لیے انھوں نے ازراہِ احتیاط، معلومات فراہم کرنے سے پہلے ،مشفق خواجہ سے بات کی تو انھوں نے منع کردیا، چنانچہ عالمگیر صاحب اور مقالہ نگار کو، خواجہ صاحب کے سوانحی اور شخصی حالات کے ضمن میں کوئی نئی بات یا مزید معلومات نہ مل سکیں۔ مقالہ بہرحال مکمل ہوگیا، طالب علم کو ڈگری مل گئی۔ کچھ عرصے کے بعد، شعبۂ اردو کے مجلے، بازیافت (مدیر: تحسین فراقی) میں کلیاتِ یگانہ پر مذکورہ طالب علم کا تبصرہ شائع ہوا تو خواجہ صاحب نے پھر تحسین صاحب سے خفگی کا اظہار کیا۔ فی الحقیقت وہ خلوصِ دل سے سمجھتے تھے کہ عالم اور شاعر و ادیب کے لیے شہرت اور نام و نمود مہلک ہے۔ ایک بار راقم الحروف کو خط لکھا:”ہوس، دولت و شہرت کی ہو، نفسِ امّارہ یا کتابوں کی، اس کی کوئی انتہا نہیں۔ الحمدللہ میں ہر معاملے میں قناعت پسند ہوں۔ “ڈاکٹر طاہر مسعود کی روایت ہے:”وہ مجھ سے کہا کرتے تھے، آدمی اپنے کام سے پہچانا جاتا ہے، لہٰذا اصل اہمیت کام کی ہے، نام میں کیا رکھا ہے۔ شیطان سے زیادہ مشہور کون ہوگا۔ آپ کتنی ہی کوشش کرلیجیے شیطان سے زیادہ مشہور تو نہیں ہوسکتے۔“ (قومی زبان، کراچی، مارچ ۲۰۰۵ء، ص ۲۳) مشفق خواجہ کی شخصیت کا ایک نہایت لائقِ تحسین پہلو یہ تھا کہ وہ اپنے نیاز مندوں ، اساتذہ اور باصلاحیّت طلبہ کو علمی و ادبی تحقیقی و تنقیدی سرگرمیوں کے لیے آمادہ کرتے، کام کے موضوعات تجویز کرتے۔اور جو جس لائق ہوتا، اسے ویسا ہی کام تجویز کرکے سونپ دیتے۔ کسی کتاب یا مخطوطے کی تدوین کا فیصلہ ہوتا تو خود فوٹو کاپی بنوا کردیتے۔ متعلقہ موضوع پر جس قدر لوازمہ اور مواد ان کی دسترس میں ہوتا، بلاتامّل مہیا کرتے اور جو چیز ان کے پاس نہ ہوتی، اس کی نشان دہی بھی کردیتے۔ راقم اپنی فہم و دانست کے مطابق کسی نہ کسی علمی کام میں مصروف رہتا، مگر جب بھی خواجہ صاحب سے ملاقات ہوتی تو وہ میرے لیے تدوین کا کوئی کام تجویز کردیتے۔ ایک بار اُنھوں نے مجھے جسونت سنگھ پروانہ کا کلیات فوٹو کراکے بھیج دیا کہ اسے مدوّن کردو۔ میں نے معذرت کی کہ یہ کام میرے بس کا نہیں ہے کیونکہ مجھے عروض میںمہارت حاصل نہیں اور اس کے بغیر شاعری کی تدوین ناقص ہوگی۔ انھوں نے میری معذرت قبول کرلی۔ اب انھوں نے عبدالرزاق کان پوری کی یاد ایام کا عکس بھیج دیااور ساتھ ہی تدوین اور املا کے سلسلے میں چند ہدایات بھی لکھ بھیجیں۔ اسی طرح خواجہ صاحب نے تحسین فراقی صاحب کے لیے کئی علمی کام تجویز کیے۔ ا ن میں سے کچھ پایۂ تکمیل کو پہنچے، جیسے عجائباتِ فرنگ کی تدوین یا مقالہ:”اردو تنقید کے دس سال“ اور کچھ ناتمام رہ گئے، جیسے: مسیر طالبی کا ترجمہ یا عبرت الغافلین کی تدوین، وغیرہ۔ ڈاکٹر اسلم فرخی صاحب سے انھوں نے گلشنِ ہمیشہ بہار مرتّب کرایا۔ داکٹر اورنگ زیب عالمگیر صاحب کو وہ خواجہ محمد شفیع دہلوی کی آپ بیتی ریکارڈ کرانے پر اکساتے رہے۔ ایک خط میں انھیں لکھا:”یہ کام بہت اہم ہے۔ اسے آپ دوسرے تمام کاموں ہر ترجیح دیجیے۔ کسی نشست میں ان کے خاندانی حالات ٹیپ کرلیجیے۔ کسی میں دہلی کی ثقافتی زندگی کی تفصیلات، خواجہ صاحب کا وسیع حلقۂ احبا ب تھا۔پہلے ان کے نام پوچھ