بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ویب سا ئٹ پر ابھی کام جاری ہے۔

معلّم، محقق، ماہرِ تعلیم ملک حق نواز خاں

۸۰ءکی دہائی میں تعطیلاتِ گرما میں، راقم اپنے عم زاد بھائی عبداللہ شاہ ہاشمی(ماہرِ مضمون، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول،حسن ابدال) کے ہاں، حسن ابدال چلا جایا کرتا تھا۔اُس زمانے میں حسن ابدال ایک پُر سکون جگہ تھی۔ تعطیلات کا بیشتر حصّہ میں اِسی عافیت کدے میں گزارتا۔لکھنے پڑھنے میں مشغول اور صبح و شام کھلی فضا میں سیر ۔بعض اوقات ایم اے اُردو کے امتحانی کے پرچے بھی ساتھ لے جاتا کیونکہ اُنھیں چند یوم کے اندر اندر دیکھ کر واپس یونی ورسٹی کو بھیجنا فرائض ِمنصبی میں شامل تھا۔ ۱۹۸۶ءکے موسمِ گرما میں چند ہفتوں کے لیے حسن ابدال کے عافیت کدے میں مقیم تھا۔ایک روز برادر عبداللہ شاہ نے بتایا کہ حضرو میں میرے ایک دوست ہیں، ملک حق نواز خاں۔ وہ ایک قریبی قصبے شمس آباد میں ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں۔کتب بینی کا ذوق رکھتے ہیں۔آپ کو غائبانہ طور پر آپ کی کتاب تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ کے حوالے سے جانتے ہیں اور آپ سے ملنے کے مشتاق ہیں۔مجھے تاکید سے کَہْ رکھا ہے کہ جب آپ لاہور سے حسن ابدال آئیں، تو میں آپ کو اُن سے ملاقات کے لیے اُن کے گھر (پیر زئی، نزد حضرو) لے چلوں۔ دو تین  روز بعد ہم نے پیر زئی کے لیے ”رختِ سفر“ باندھا۔”رختِ سفر“ کیا تھا؟ایک ایک چھتری اور دو تین کتابیں۔حسن ابدال کے پوسٹ آفس کے باہر درخت کے سائے میں ایک آدھ گھنٹا انتظار کرنا پڑتا تھا۔بہر حال ہم نے حضرو پہنچ کرتانگہ لیا اورنواح میں واقع پیر زئی، ملک صاحب کے درِ حق نواز پر پہنچ گئے۔ اَب آگے کی کہانی ملک صاحب کی زبانی سُنیے:”یہ اتوار۲۰  جولائی ۱۹۸۶ء کا ایک گرم دن تھا۔ مہمانوں کی آمد کا سن کر، میں بعجلت باہر آیاتو دیکھا کہ عبداللہ شاہ صاحب کے ساتھ ایک سنجیدہ اور باوقار شخص کھڑے ہیں۔ دبلے پتلے ، نکلتا ہوا قد، صاف ستھرا سادہ لباس پہنے، سر پر قراقلی اور اُس گرم دن بھی ہلکے کپڑے کی بنی واسکٹ زیبِ تن کیے ہوئے۔چہرے پر خوبصورت داڑھی اور ہونٹوں پر ایک دل فریب مسکراہٹ سجائے، یہ ڈاکٹر رفیع الدّین ہاشمی صاحب تھے۔ اُن سے میری یہ پہلی ملاقات تھی مگر عبداللہ شاہ ، اُن سے میرا غائبانہ تعارف کرا چکے تھے،اِس لیے مجھے دیکھتے ہی وہ آگے بڑھے اور پُر جوش معانقہ کیا۔۔۔اُس روز میں جامے میں پھولا نہیں سما رہا تھا۔“ گھنٹا ڈیڑھ بیٹھے رہے۔ عبداللہ شاہ کچھ تعارف توکرا چکے تھے،مزید میں نے اپنا تعارف خود کرا دیا۔ملک صاحب نے بتایا کہ اُنھوں نے میری کتاب تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ پڑھی تھی اور”میں اسے پڑھ کر بہت متاثّر ہوا تھا۔“ ۔۔۔باتیں، گفتگو۔ زیادہ تر علّامہ اقبال کے موضوع پر تبادلۂ خیالات ہوا۔میری طرح وہ بھی علّامہ اقبال کے مدّاح تھے۔  اندازہ ہوا کہ بہت بامطالعہ شخص ہیں اور تحقیقی ذہن رکھتے ہیں۔مَیں اپنی دو تین کتابیں ساتھ لے گیا تھا،اُنھیں پیش کیں۔ بہت خوش ہوئے۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔تعطیلاتِ گرما میں راقم جب بھی حسن ابدال جاتا، یااگر کسی اجلاس میں شرکت یا ایم فل کی ورکشاپ میں لیکچروں کے لیے علّامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد جانا ہوتا، تووقت نکال کر پیر زئی بھی ملک صاحب کے ہاں حاضری دیتا۔اُن کے ذوق کے مطابق کوئی کتاب بطور تحفہ لے جاتا۔ وہ بہت خوش ہوتے۔کبھی کبھار یونی ورسٹی میں کئی دن کی مصروفیات کی وجہ سےتکان ہوجاتی اور میں واپس لاہور آنا چاہتا تو پیرزئی فون کرکے، ملک صاحب سے معذرت کرتا کہ اس بار نہ آسکوں گا۔ وہ آئندہ حاضری کے وعدے پر معذرت قبول کرلیتے۔ اُنھوں نے کتابوں کا بہت اچھا ذخیرہ جمع کر رکھا تھا۔اپنے ذوق کی نئی کتابیں منگواتے رہتے تھے۔مجھے خط لکھ دیتے اور راقم جب بھی پیر زئی جاتا، کتابیں لے جاتا۔اُنھوں نے بعض ادبی رسائل بھی لگوا رکھے تھے۔جیسے قومی زبان، کراچی-الحمرا ، لاہور-اخبارِ اُردو ، اسلام آباد- مخزن ، لاہور- ترجمان القرآن، لاہور، صحیفہ لاہوراور اقبال لاہور وغیرہ۔ میری کوئی نئی کتاب چھپتی ، ملاقات پر پیش کرتا یا ڈاک سے انھیں بھیج دیتا۔ کتاب ،اُن کے پاس پہنچتی، تو بنظرِ غائروہ اُس کا مطالعہ کر کے اُس پر ماہرانہ تبصرہ رقم کرکے کہیں چھپنے کےلیے بھیج دیتے یا مجھے ارسال کردیتے۔بالعموم مجھے وہ ایک” صحت نامہ“ بنا کربھی بھیجتےجس میں پروف ، متن اور املا کی غلطیوں کے ساتھ رموزِ اوقاف کی غلطیوں کی تفصیل درج ہوتی۔بعض اوقات وہ کسی عبارت میں لفظی تبدیلی یا کسی جملے کی ساخت میں ترمیم تجویز کرتے۔اکثر میں اُن کی ترامیم اور تبدیلیاں قبول کر کے آئندہ اشاعت میں اصلاح کر لیتاتھا۔ خط لکھنے اور خط کا جواب دینے میں وہ بہت مستعد تھے۔خط پہنچتے ہی ممکنہ حد تک جلد از جلد جواب لکھ بھیجتے۔کتابیاتِ اقبال کے ضمن میں بعض حوالوں کی تکمیل کے لیےراقم اُن سے استفسار کرتا، وہ ممکنہ حد تک جلدی جوابات لکھ بھیجتے۔ راقم کے پاس اُن کے تقریباً ۴۰ خطوط محفوظ ہیں۔ملک صاحب راقم کو بعض موضوعات پر قلم اٹھانے پر اکساتے۔ کبھی، زیرِ تحریر و تکمیل منصوبوں پر کام جلد سے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے۔ میں اُنھیں اپنی مصروفیات کے سبب صورت حال سے آگاہ کرتا تو مطمئن ہوجاتے۔ ان کے تین خطوط ، ڈاکٹر خالد ندیم کی مرتّبہ کتاب اقبالیاتیِ خطوط اوّل(الفتح پبلی کیشنز راولپنڈی، ۲۰۱۲ء)میں شامل ہیں۔(ص ۲۳۱-۲۳۷) جن سے اُن کی علمیّت کے ساتھ اقبالیات پر اُن کی گہری نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔یکم دسمبر ۲۰۰۳ء کے خط میں لکھتے ہیں:”۲۸ نومبر کی شام ۲۰:۶ پر ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب نے ٹی وی پر اقبال اور اسلام پر تقریر کی اور حق یہ ہے کہ خوب کی۔ تقریر چونکہ مدلّل اور پُر  از معلومات تھی، لیکن وقت چونکہ محدود تھا، اس لیے بعض نکات کی طرف صرف اشارے ہی کیے جا سکتے تھے۔آپ نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ اقبال مذہب میںحرکت کے قائل ہیں اور جو بھی مذہب حرکت کا قائل ہو گا، وہ زندہ و جاوید رہے گا۔آپ نے حرکت ہی سے اجتہاد کو ثابت کیا اور کہا کہ اجتہاد ہی سے عصری ضروریات سے نمٹا جا سکتا ہے۔ یک فقرہ تقریر کے آخر آخر میں یہ بھی تھا کہ اسلام سکون اور امن کا دین ہے ۔

ڈاکٹرحسن مرادکی منزل مراد

کرتے۔راقم نےاقبال :سوانح و افکار کے نام سےایک کتاب مرتب کی تو یہ کتاب سلیم منصور خالد صاحب کے توسّط سے یو ایم ٹی نے طبع کی۔ سلیم صاحب راوی ہیں کہ جب یہ کتاب  حسن  کو دی گئی تورمضان المبارک کی ایک رات سحری تک انھوں نےیہ ساری کتاب ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالی۔ سلیم صاحب سے ملاقات پر انھوں نے بڑے جذبے اور شوق کے ساتھ پانچ سات منٹ تک اقبال اور کتاب کی افادیت پر بات کرتے ہوئے کہاکہ میں اپنی یونی ورسٹی کے ہر طالب علم پر لازم کروں گا کہ وہ اس کتاب کو خریدے اور پڑھے۔چند روز بعد ایک ملاقات میں ڈاکٹر حسن مراد نے یہ بات  خود بھی مجھے بتائی۔  دراصل اُنھیں بچپن ہی سے  مطالعے  کا ذوق و  شوق تھا۔ اقبالیات کے حوالے سے بھی اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ عام طور پر کسی بڑے یا انتظامی عہدے پر موجود شخص کے لیے مطالعہ میں  اس طرح کا تسلسل رکھنا مشکل ہوجاتا ہےکہ دیگر مصروفیات اور ترجیحات اور ذمہ داریاں آڑے آنے لگتی ہیں، نتیجتاً وہ  کتاب سے آہستہ آہستہ دور ہو جاتا ہے مگر ڈاکٹر حسن مراد صاحب کے ساتھ یہ معاملہ نہ تھا۔  انھوں نے  بڑے اہتمام اور شوق سے گھر میں بھی ایک ذاتی لائبریری سے قائم رکھی تھی جس سے وہ فارغ اوقات اور تعطیلات میں استفادہ کرتے تھے۔ یوں ان کی کتاب بینی کا سلسلہ کبھی رکا نہیں۔  وہ اچھا لکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ ترجمان القرآن میں بھی لکھتے تھے۔ اگرچہ بہت  تھوڑا لکھا لیکن  قلم  وقرطاس سے  اُن کا تعلق کبھی کمزور نہ ہوا۔ تحریری سرگرمیوں کے لیے وہ روز مرہ کی انتظامی مصروفیات یا ضرورتوں کی وجہ سے وہ لکھنے کے لیے زیادہ وقت نہ نکال پاتے تھے۔ تاہم زندگی کے آخری برسوں میں، معلوم ہوا ،کہ وہ اس جانب توجہ بڑھانے کا فیصلہ کیے ہوئے تھے۔ اپنی ریکٹر شپ کی ذمہ داری چھوڑنے کے بعد ان کا  عزم تھا کہ اب وہ مکمل یکسوئی کے ساتھ لکھنے لکھانے کا کام کریں گے۔ سلیم منصور خالد صاحب نے تو ان کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ اس  فرصت سے فائدہ اٹھائیں اور برطانیہ جا کرپانچ سال کےلیے یو کے اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر میں بیٹھ کر  تصنیف و تالیف کے لیے گوشہ نشین ہو جائیں مگر:” تدبیر کند بندہ، تقدیر زند خندہ“ ۔ افسوس کہ اس عزم پرعمل پیراہونے کی نوبت نہ آسکی اور وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔   اللہ نے  لکھنے کی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ، ڈاکٹر حسن مراد کو تقریر اور گفتگو کے فن سے بھی خوب نوازا تھا۔ وہ بہترین مقرر تھے۔مجھے کئی بار یو ایم ٹی میں خرم مراد لیکچر سیریز کے مواقع پر ان کی گفتگو سننے کا موقع ملا۔ وہ سُلجھی ہوئی پُر مغز گفتگو کرتے تھے۔ سامعین اُن کی تقریر سے کچھ حاصل کرکے اُٹھتے تھے۔ ایک بار  اُن سے یو ایم ٹی کے حوالے سے بات ہو رہی تھی تو میں نے انھیں تجویز دی کہ یو ایم ٹی میں شعبہ ٔاردو بھی قائم ہونا چاہیے کیوں کہ  لاہور میں صرف دو جامعات( پنجاب یونی ورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی)میں شعبہ ہائے اردو قائم ہیں۔ پوسٹ گریجویٹ سطح پر لاہور میں کسی اور  ادارے میں اردو پڑھانے کا اہتمام نہیں ہے۔ اگرچہ اردو ہماری قومی زبان ہے اور اس ناطے طلبہ و طالبات کو ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے لیکن جامعات میں اس کو ترجیحاً پڑھانے کا اہتمام نہیں ہے۔اس سے نئی نسل اپنی تاریخ اور ادب کے وسیع اثاثے سے محروم ہو رہی ہے۔ نیز یہ کہ نئے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقات میں اردو پڑھنے اور لکھنے کا رجحان کمزور تر ہو رہا ہے۔ پھراسی تناظر میں اقبالیات کے موضوع پر بھی بات ہوتی۔ اقبالیات ،شعبۂ اردو کا اہم جزو ہے۔ جہاں بھی اردو میں ماسٹر ڈگری کرائی جاتی ہے،  اقبالیات کو ایک با ضابطہ مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر حسن مرادنے شعبۂ اردو کی تجویز کو بہت پسند کیا۔ راقم نے سرگودھا یونی ورسٹی کے  ڈاکٹر خالد ندیم  صاحب کی ڈاکٹر حسن مراد صاحب سے ملاقات بھی کرائی ۔ وہ بھی کچھ عرصےکے لیے سرگودھا یونی ورسٹی سے چھٹی لے کر آنے پر تیار تھے۔ خود راقم کا بھی ارادہ تھا کہ تدریسی عمل میں شامل ہو جاؤں گا۔ لیکن  ڈاکٹر حسن صاحب کی مصروفیات آڑے آئیں  اور دیگر مسائل کی وجہ سے اس منصوبے کو عملی شکل نہ دی جا سکی۔ ڈاکٹر حسن مراد کو اﷲ نے فکری اعتبار سے گہرے شعور سے اور عملی اعتبار سے بہترین صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ اسی سبب وہ آخر وقت تک تحریک ِ اسلامی سے بھی جڑے رہے اور آئی ایل ایم کے نام سے شروع کئے گئے ایک چھوٹے ادارے کو ملک کی ممتاز جامعہ (یو ایم ٹی) تک لانے میں بحسن و خوبی کامیاب ہوئے۔ ایک فرد کے لیے اتنی بڑی کامیابی آسان نہ تھی۔ اس لیے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔تحریکوں میں اس طرح کے لوگ اگر پانچ فیصد بھی ہو جائیں تو یہ غنیمت ہوتے ہیں،لیکن بدقسمتی سے ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نظر نہیں آتے۔ آج بھی یہی صورت حال ہے کہ ایسے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک سبب یہ بھی ہے کہ تحریکیں خود بھی اپنی ترجیحات کے معاملے میں اِدھر اُدھر ہوجاتی ہیں، کم از کم ہمارے ہاں یہی ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر حسن  صہیب مراد کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی  عظمت کے خبط  میں مبتلا ہوئے  بغیر ایک خوبصورت اور کامیاب زندگی گزار کر اللہ کی جنتوں کے راہی ہوگئے۔ اللہ ان کی جامعہ کو ان کے فکر و عمل کا بہترین نمونہ بنادے۔ وہ اس چیز کو ہی شعوری طور پر اپنی” منزل مراد “سمجھتے تھے۔      آخر میں یہ عرض کروں کہ  مرحوم سے جو تعارف ان کےجنازے میں ہوا،وہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا ۔ جنازے میں شرکت سے پہلے مجھے ان کے ہردل عزیز ہونےکا اندازہ  نہ تھا۔ان کے جنازے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو شریک دیکھا تو ان  کی اس درجہ  عظمت  اور غیر معمولی شخصیت کا احساس ہوا، حادثے میں  انتقال کے

ڈاکٹر محمد ایوب صابر

آسمانِ اقبالیات کا ایک اورستارہ ڈوب گی                                                                                                                                                                      ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی                 خیابان پشاور کے اقبال نمبر میں ایوب صابر صاحب کا ایک مضمون نظر سے گزرا تھا لیکن بالمشافہہ ملاقات ۱۹۷۷ء کے موسمِ گرما میں جولائی میں ہوئی، تاریخ یاد نہیں ۔                  اپریل ۱۹۷۷ء میں اقبالیات پرراقم اور ایوب صابر کے شاگرد، صابر کلوروی کی پہلی کتاب یاد اقبال مکتبہ شاہکار کراچی سے شائع ہوئی،جریدی اشاعت تھی۔صابر کلوروی نے مجھے اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں شمولیت کے لیے ایبٹ آباد آنے کی دعوت دی۔میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں لیکچرر تھا۔ ان سے ملاقات نہ تھی۔یہ پہلا رابطہ تھا۔ انھوں نے لکھا کہ آپ مقررہ تاریخ کو ایک بجے تک ایبٹ آباد کے ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں پہنچ جائیں۔تقریب کی صدارت آپ کریں گے۔راقم مقررہ تاریخ اور وقت پر پہنچا تو کونسل ہال کے دروازے پر لگا تالا منہ چڑا رہا تھا۔میں انتظار میں باغ میں گھومنے لگا۔آدھ گھنٹا، ایک گھنٹا ۔صاحب ِ کتاب ،نہ تقریب ۔وہاں موجود کونسل کا ایک کارندہ  بھی لاعلم تھا۔آخر عصر کے وقت تقریب سے مایوس ہو گیا ۔کلوروی کا خط نِکالا ،جس میں یہ لکھا تھا : تقریب کے بعد، آپ دیگر مہمانوں کے ساتھ میرے گاؤںکلور چلیں گے اور ولیمے میں شریک ہوں گے۔شب بسری وہیں ہوگی۔میں نے دو ایک لوگوں سے معلوم کیا تو پتا چلا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں کلوراڈّےپر پہنچا جا سکتا ہےمگر وہاں سےگاؤں کلور دو تین میل دور ہے۔پیدل جانا پڑتا ہے ۔رات کے وقت سفر مناسب نہیں ہے۔          راقم نے ایک ہوٹل میں شب بسری کے بعد علی الصبح عزمِ سفر باندھا۔ مانسہرہ کی طرف جانے والی بس میں سوار، کلور اڈّے پر اترا اور گاؤں کا رخ کیا ۔خدا بھلا کرے کلور کےایک شخص کا جو مجھے ساتھ لے چلااور صابر صاحب کے گھر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔          صابر !باہر نکلو، مہمان آئے ہیں ۔         صابر نکلے تو انھوں نے مجھے اور میں نے انھیں دیکھا۔ گھر کے اندر لے گئے،والد سے تعارف کرایا، وہ بھی بہت خوش ہوئے ۔پتا چلا رات ولیمے میں آئے ہوئے مہمان ناشتا کرکے جا چکے تھے۔ جانے والوں میں ایوب صابر اور رحیم بخش شاہین شامل تھے۔خود صابر کلوروی سسرال جانے کے لیے تیّار بیٹھے تھے۔بہر حال انھوں نے ناشتا بنوایا ، گفتگو ہونے لگی ۔عذر معذرت کرنے لگے کہ تقریبِ رونمائی کا پروگرام منسوخ ہو گیا تھا اور وقت نہ تھا کہ آپ کو اطلاع دی جاتی۔         خیر ،ناشتا کرکے ہم گھر سے اکٹھے نکلے۔کلور کے اڈّے پر پہنچ کر راقم ایبٹ آباد کی بس میں بیٹھا اور صابر صاحب اپنی بیگم کے ساتھ دوسری سمت میں روانہ ہو گئے۔صابر صاحب نے مجھے ایوب صابر کے مکان کا پتا بخوبی سمجھا دیا تھا۔         جب میں نے ان کے مکان پر دستک دی تو ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ دروازہ کھلا تو نام بتایا۔میری ان سے اور ان کی مجھ سے پہلی ملاقات تھی۔ اتفاق سے مرحوم رحیم بخش شاہین بھی ان کے ہاں موجود تھے۔ یہ پہلی ملاقات تھی۔آخری ملاقات ستمبر ۲۰۲۲ء میںاسلام آباد میں ان کے مکان پر ہوئی۔۴۵ برسوں کی کہانی بہت لمبی ہے، فقط چند جھلکیاں پیش کرنا ممکن ہے۔         اقبال پر ان کے چند مضامین دیکھ چکا تھا۔اسی پہلی ملاقات میں نے انھیں اقبالیات کے بعض موضوعات پر لکھنے پر متوجہ کیا بلکہ اُکسایا۔ کہنے لگے: میں نے دو تین مضامین اور بھی لکھ رکھے ہیں اور کچھ مزید بھی لکھوں گا، کتاب تیار کرنے کا ارادہ ہے۔         راقم نے کہا: مزید ضرور لکھیے اور جو لکھ رکھے ہیں انھیں چھپوا بھی دیجیے۔        بعد ازاں معلوم ہوا کہ پشاور یونی ورسٹی کی متعلمی کے زمانے میں مضمون نویسی کے مقابلوں میں ایک بار اوّل ، دوسری بار دوم انعام جیت کر اپنے استاد اور اقبال شناس پروفیسر محمد طاہر فاروقی سے داد ِتحسین حاصل کر چکے تھے۔یونی ورسٹی آنے سے پہلے ایبٹ آباد کالج میں انھیں ایک بڑے قابل استاد پروفیسر صغیر احمد جان دہلوی سے بھی اکتساب کا موقع ملاتھا۔اس زمانے میں شعر وادب کے لیے کالج کی فضا بہت سازگار تھی۔            ذکر تھاان کے مکان پر پہلی ملاقات کا۔                 اس پہلی ملاقات کے بعد کچھ وقفہ آیا۔ راقم کا سرگودھا سے لاہورگورنمنٹ کالج تبادلہ ہو گیا۔پونے دو برس بعد یونی ورسٹی اورینٹل کالج سے بطور لیکچرر شعبۂ اردو سے وابستہ ہوا۔اس زمانے میں راقم تعطیلات میں چند دنوں یا ہفتوں کے لیے ایبٹ آباد چلا جاتا۔ ایوب صابر صاحب سے ملاقات رہتی۔ وہ ایبٹ آباد کالج میں پڑھا رہے تھے۔ملاقات میں قدرتی طور پر اس طرح کی گفتگو ہوتی:    ”کیا کر رہے ہیں آج کل؟“  ”زیادہ تر مطالعہ۔“  ”کچھ لکھ بھی رہے ہیں ؟“  ”جی ہاں ۔“  ”اقبال کی طرف آئیے۔ساتھ ہی کچھ لکھیے بھی۔“  نتیجہ:  ایوب صاحب نے علّامہ اقبال اوپن یو نی ورسٹی کی ایم فل کلاس میں داخلہ لےلیا ۔ ان کے تحقیقی مقالے کا عنوان تھا: اقبال پر بعض معاندانہ کتب کا جائزہ۔ راقم کو اس کے بیرونی ممتحن اور زبانی امتحان لینے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ ایم فل تو۱۹۸۸ء میں مکمل ہو گیا ۔نظر ثانی کے بعد اسے اقبال دشمنی: ایک مطالعہ کے عنوان سے۱۹۹۳ میں ڈاکٹر جاوید اقبال اور راقم کے دیباچوں کے ساتھ شائع کرادیا۔ صابر کلواری خود تو ڈاکٹریٹ کی منزل سر کر چکے تھے، وہ اپنے استاد ایوب صابر کو بھی مسلسل اکساتے رہتے تھے اور راقم بھی انھیں توجہ دلاتا رہا۔ آخر کار، قدرے توقف کے بعد وہ تیار ہو گئے۔                 انھوں نے ۱۹۹۵ء میں ۴ برس قبل از وقت ، ریٹائرمنٹ لےلی ،کیوں؟(اس کا جواب آگے آتا ہے۔)  وہ پنجاب یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی کےلیے رجسٹریشن کر اچکے تھے اور اب بالکل یکسو ہو کر کام کرنا چاہتے تھے۔ مقالے کےلیے باہمی مشورے سے علّامہ اقبال کی شخصیت اور فکر و فن پر اعتراضات :تحقیقی و تنقیدی جائزہکا عنوان طے ہوا ۔ راقم ان کا نگران مقرر ہوا ۔ اس زمانےمیں، جیسا کہ اوپر بتا چکا ہوں، راقم تعطیلات میں کچھ دنوںکےلیے ایبٹ آباد جایا کرتا تھا ۔ایوب صاحب سے ملاقات ہوتی اور تبادلۂ خیال بھی۔ ڈیڑھ دو برس تو وہ صرف کتابوں کی جمع آوری اور مطالعے میں مصروف رہے ۔ میں نے اپنےتجربے کی بنیاد پر انھیں مشورہ دیا کہ وہ لکھنے کاکام بھی شروع کردیں۔انھیں خود بھی یہی احساس ہوا کہ مطالعے کو لمبا کرنے سے لکھنے

معلّم،محقّق اور قلم کارانور محمود خالد

۲۲ نومبر ۲۰۲۱ء بروز پیر، ابھی سورج غروب ہونے میں چند منٹ باقی تھے کہ مجھے واٹس ایپ پر اپنے دوست (اور متعدّد کتابوں کی تالیف و تدوین میں راقم کے ساتھ شریک) پروفیسر سلیم منصور خالد صاحب کا یہ پیغام موصول ہوا:”سیرت نگاری کا درخشاں باب بند ہوگیا۔ ڈاکٹر انور محمود خالد صاحب وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلَّہِ وَاِنَّا اِلَیْہ ِ رَاجِعُوْنَ۔ اردو نثر میں سیرتِ رسول ﷺ اُن کا شاہکار اور شفاعت کی دستاویزتھا، ان شاء اللہ۔“                 انور محمود کتنے خوش بخت ہیں کہ بلاشبہہ وہ سکندر کی طرح خالی ہاتھ نہیں ،بلکہ اپنی ”شفاعت کی دستاویز“لے کر رخصت ہوئے۔ خدا کرے اگلی دنیا میں یہ دستاویز اُن کے لیے مختلف مراحل سے بلاروک ٹوک گزرنے کا ”ویزا“ ثابت ہو۔اور باری تعالیٰ کے دربارسے اُمیدِ واثق ہے کہ ایسا ہی ہو گا ،اِن شاءاللہ۔                  ستّرکی دہائی میں(سنہ یاد نہیں)مقامی حلقہ اربابِ ذوق نے محفل ہوٹل لائل پور (اب:فیصل آباد) میں خورشید رضوی کے ساتھ ایک شام منانے کا فیصلہ کیا۔ پروفیسر ریاض مجید اور انور محمود خالد، اس تقریب کے مہتمم تھے۔ راقم، خورشید رضو ی اور جناب انور سدید سرگودھاسے چلے۔ بعد عصر تقریب شروع ہوئی۔ خورشید رضوی صاحب کی شخصیت اور شاعری پر مضامین پڑھے گئے اور آخر میں مشاعرہ ۔خالد صاحب سےغائبانہ تعارف تو ۱۹۶۸ءسے تھا، جب وہ نعیم صدیقی صاحب کے سیـارہ میں معاون مدیر کے طور پر کام کرہے تھے۔ (ان کے بعد راقم معاون مدیر مقرر ہوا۔ ) لیکن بالمشافہہ یہ پہلی ملاقات تھی۔غالباً اسی موقعے پراُنھوں نے راقم کو دستخطوں کے ساتھ اپنی شاعری کی پہلی کتاب عہد نامہ پیش کی۔ میں نے اس پر ایک مختصر سا تبصرہ بھی لکھا تھا۔                 اس کے بعد بارہا ملاقاتیں ہوئیں۔ کئی بار وہ سرگودھا آئے، اور ڈاکٹر وزیر آغا کے ہاں ، انور سدید، خورشید رضوی، پروفیسر غلام جیلانی اصغر اور سجاد نقوی کے ساتھ اُن سے صحبت رہی۔بالعموم پروفیسر ریاض مجید بھی اُن کے ساتھ ہوتے۔ ڈاکٹر سیـّد معین الرحمان مرحوم،غالباً ۱۹۷۴ء میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لائل پور کے صدر ِشعبۂ اُردوہو کر لائل پور پہنچے۔ خالد صاحب اسسٹنٹ پروفیسر تھے۔ معین صاحب نے اُنھیں توجّہ دلائی کہ پی ایچ ڈی کر لیجیے۔معین صاحب کی بڑی خوبی تھی کہ وہ متعلقین کو اپنی استعداد بڑھانے کی طرف متوجہ کرتے، بلکہ مسلسل اُکساتے۔ ان کی توجہ سےنہ صرف انور محمود خالدبلکہ ریاض مجید، ریاض احمد ریاض،رشید احمد گوریجہ اورافضال احمد انورنےبھی آگے پیچھے پنجاب یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کرلیا۔ انور محمود نےاُردو نثرمیں سیرتِ رسول  کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی۔                  میرے استاد ڈاکٹر وحید قریشی مرحوم غالبا اُس زمانے میں اقبال اکادمی کے ناظم تھے۔ اُنھوں نےخالد صاحب سے مقالہ لے کر۱۹۸۹ء میں شائع کردیا۔خالد صاحب کا خیال تھا کہ وہ اِسے اَپ ڈیٹ کریں گے۔ سیرتِ رسول ﷺ ایک سدا بہار موضوع ہے۔ اس پر ہر سال کتابوں کا اضافہ ہوتاتھا، اب بھی ہوتا ہے۔خالد صاحب آخری زمانے تک نئی کتابیں جمع کرتے رہے۔ دوست کہتے رہے کہ جو کچھ لوازمہ میسر آگیا ہے۔ اسی کی مدد سے کتاب کادوسرا حصہ لکھ ڈالیے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار جب راقم کتابیاتِ اقبال کےلیے حوالے جمع کررہا تھا تو لائل پور گیاخالدصاحب سے ملاقات کے لیے، اُن کے گھر پہنچا،اقبالیاتی کتابوں کے حوالے نوٹ کیے۔( اُن دنوں وہ کرائے کے مکا ن میں مقیم تھے۔) راقم نے اس ملاقات میںبھی مشورہ دیا کہ دوسرا حصہ لکھنا شروع کیجیے۔ لیکن پھر وہ تعمیرِ مکان میں مصروف ہوگئے۔ یوں دوسرا حصہ نہ لکھا جا سکا۔                 انور محمود خالد اعلیٰ درجے کا علمی و ادبی اور شعری ذوق رکھتے تھےاور منجھے ہوئے قلم کار تھے۔جیسی اُن کی صلاحیت تھی، اس کے مطابق اُنھوں نے تصنیف و تالیف کی طرف خاطر خواہ توجّہ نہیں دی، پھر بھی وقتاً فوقتاً جو کچھ لکھّا، وہ رسائل میں بکھرا ہوا ہے۔ مثلاً الحمرا ہی میں اُن کے حسبِ ذیل مضامین شائع ہوئے:    –              علّامہ اقبال بحیثیت نعت گو                                                                                          اپریل ۲۰۰۷ء ۲-            تصوراتِ عشق و خرد، اقبال کی نظر میں                                                                        جون ۲۰۰۹ء ۳-           اقبال ، مشاہیرِ کشمیر اور جگن ناتھ آزاد                                                                          ستمبر ۲۰۰۹ء ۴-           فکرِ اقبال اور عصرِ حاضر                                                                                                                جولائی ۲۰۱۰ء ۵-            بانی پاکستان کے نام، مفکّرِ پاکستان کے خطوط                                                                  اکتوبر ۲۰۱۵ء ۶-            ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کی پہلی برسی پر                                                                        نومبر  ۲۰۱۶ء ۷-           غلطی ہائے مضامین مت پوچھ!                                                                                    مئی ۲۰۱۷ء ۸-           جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کی دوسری برسی پر                                                   نومبر ۲۰۱۷ء ۹-            عبدالوہاب خان سلیم مرحوم کی یاد میں                                                                         جنوری ۲۰۱۸ء ۱۰-           علامہ اقبال اور آفتا ب اقبال پر ایک طائرانہ نظر                                                               مئی ۲۰۱۹ء ۱۱-            ”۔۔۔۔یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟“                                                                                   اگست ۲۰۱۹ء ۱۲-           ماہنامہ الحمرا کا گوشۂ کشمیر                                                                                             اکتوبر ۲۰۱۹ء ۱۳-          ”غنچہ لگا پھر کھلنے۔۔“(جگن ناتھ آزادکی کتاب اقبال اور کشمیر کے حوالے سے چند معروضات) نومبر ۲۰۱۹ء ۱۴-          ایس اے واحد ، وادیِ لولاب کے انور شاہ کشمیری اور کشمیر کے زندہ دل برہمن زادے          کون؟ (چند تصریحات-ڈاکٹراسلم انصاری کے مضمون کے جواب میں )                                  فروری ۲۰۲۰ء ۱۵-           دو اہم ادبی شخصیات کی رحلت                                                                                      جولائی ۲۰۲۰ء                 ایک زمانے میں خالد صاحب نے رسالہ فنون میں علامہ اقبال کی نظموں ”شکوہ“ اور ”جوابِ شکوہ “ پر دو مفصل مضمون شائع کیے تھے۔ان مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کی زیادہ توجہ اقبالیات پررہی۔یقیناً وہ ایک جیـد اقبال شناس بھی تھے۔ اگر اُن کے جملہ مضامین تلاش اور جمع کیے جائیں تو ایک نہایت معقول تحقیقی اور تنقیدی مجموعہ تیار ہوجائے گا۔                 جسٹس (ر)ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے نام مشاہیرِ عالم کے خطوں کا ایک اُردو اور ایک انگریزی مجموعہ شائع کیا تھا۔اُردو مجموعہ خطوط بنام جاوید اقبال کے عنوان سے ۲۰۱۱ء میں طبع ہوا۔جاوید صاحب ۲۰۱۵ء میں فوت ہو گئے۔مذکورہ بالا اُردو مجموعے کی اشاعت کے بعد اُنھیں جو خطوط موصول ہوئے، وہ اُنھیں ایک فائل میں محفوظ کرتے گئے۔ خالدصاحب نےالحمرا میںشائع شدہ اپنے ایک مضمون میں اِن خطوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:”ڈاکٹر جاوید اقبال کے ورثا سے گزارش ہے کہ اِن چھے برسوں کے موصولہ خطوط کی فائل ڈھونڈیں اور اُنھیں مرتّب کر کے سپردِ اشاعت کریں۔“۔۔۔۔خالد صاحب خط نویسی میں بڑے مستعد تھے۔بیسیوں

امجد اسلام امجد

                اورینٹل کالج میں امجد اسلام ایک کلاس مجھ سے پیچھے تھے۔ میرا سیشن ۱۹۶۴ء-۱۹۶۶ء کا تھا، اور اُن کا ۱۹۶۵ء-۱۹۶۷ء ۔ یونی ورسٹی کے طلبہ میگزینمحّور کی ادارت میں بھی یہی صورت تھی۔راقم میگزین بورڈ کا چیئر مین اورمحّور کا چیف ایڈیٹر منتخب ہوا۔اگلے برسمحّور امجد اسلام کی ادارت میں شائع ہوا۔                 جب وہ سالِ اوّل میں داخل ہوئے، غالباً ستمبر ۱۹۶۵ء میں۔ یونی ورسٹی کے اندر اور بیرونی کالجوں میں بھی ہونے والے مشاعروں میں شعبۂ اُردو اور اورینٹل کالج کی نمائندگی کرنے لگے۔ بعض اوقات شاعری کے انعامی مقابلوں میں اوّل یا دوّم انعام بھی لے آتے۔                 راقم نے ۱۹۶۷ء-۱۹۶۹ء کا زمانہ متفرق مصروفیات میں گزارا۔(میونسپل ڈگری کالج چشتیاں، ایف سی کالج لاہور، ہفت روزہ آئین لاہور ،ماہ نامہ سیّارہ لاہور، ماہ نامہ اُردو ڈائجسٹ لاہور)چونکہ زیادہ تر لاہور میں رہا، اس لیے اِس عرصے میں وقتاً فوقتاً ملاقات ہو جاتی تھی۔ وہ ایم اے او کالج میں لیکچرر ہو گئے تھے۔ اُس زمانے میں وہ فلیمنگ روڈ پر رہتے تھے۔ اُن کے بالمقابل مکان میں میرے دوست حفیظ الرحمٰن احسن مقیم تھے۔ کبھی کبھی اُن کے ہاں جاتا ، تو امجد سے بھی ملاقات ہو جاتی۔ وہ چائے پلاتے اور شاعری بھی سناتے۔ فلیمنگ روڈ پر ہی پروفیسر آقا بیدار بخت رہتے تھے۔ وہ شاعری میں امجد کے استاد تھےاور کرکٹ میں بھی۔ آقا صاحب امجد کے ساتھ خود بھی کرکٹ کھیلا کرتے۔                  آقا بیدار بخت بڑی خوبیوں کے بزرگ تھے۔ ایک اعتبار سے  وہ امجد اسلام کےمحسن تھے۔ آقاصاحب نے دارالعلوم شرقیہ کے نام سے ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارہ قائم کر رکھا تھا۔ اس زمانے میں میں بی اے کا امتحان پرائیویٹ طور پر نہیں ہوتا تھا۔ پہلے عربی، فارسی اور پنجابی میں سے کسی ایک زبان پاس کرنا پڑتا ، پھر انگریزی اونلی کا، پھر آپ آگے بڑھ سکتے تھے۔ اسے  “وایا بٹھنڈا” کہتے تھے۔ آقا صاحب نے اس راستے سے سینکڑوں نوجوانوں کو سو ل سروس میں بھیجا۔ امجد اسلام امجد کومطالعے سے دلچسپی تھی، آقا صاحب اُسے پڑھنےکے لیےاسےکتابیں دیتے اور کہتے:لے جاؤ اور پڑھو۔                 آقا صاحب کو خدا جنّت نصیب کرے۔ پرانے وقتوں کی بات ہے۔ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے مجاہد سیّد علی گیلانی حصولِ تعلیم کےلیے سری نگر سے لاہور آئے تھے۔ آقا صاحب کے ادارے میں داخل ہوگئے۔ آقا صاحب نے اندازہ لگایا ہوگا کہ با صلاحیّت لڑکا ہے۔ گیلانی مرحوم لکھتے ہیں: انھوں  نے بغیر فیس لیے مجھے ادیب عالم میں داخلہ دے دیا حالاں کہ ابتدائی درجہ ادیب تھا۔ آقا صاحب نے علی گیلانی کو کلاسیکی شاعری پڑھائی۔وہ آقا صاحب کے  مدّاح تھے۔بتانے کا مقصد یہ ہے کہ آقا صاحب ہر ایک کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔امجد اسلام نے ان سے یہ بات سیکھی اور اسے آگے منتقل کر دیا،مثلاً:امجد نے اوریا مقبول جان کو ڈرامانگاری پر لگا دیا۔                 امجد اسلام امجد اصلاً شاعر تھے۔ یوں تو انھوں نے بہت سی اصنافِ شعر میں طبع آزمائی کی، مگر راقم کے خیال میں وہ نظم کے شاعر تھے اور نظم بھی آزاد۔ اگرچہ انھوں نے ایک بڑا ذخیرہ غزل کا بھی یادگار چھوڑا ہے۔ امجد ،زمانہ طالب علمی میں مقبول تھےاورآخری زمانے تک ان کی مقبولیت ،نہ صرف برقرار رہی ،بلکہ اس میں اضافہ ہو گیا۔حالانکہ ایسا کم ہی ہوتا ہے۔ان کی شخصیت اور شاعری میں کچھ ایسی کشش تھی کہ کوئی محفل ،کوئی مشاعرہ ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تھا۔                 امجد اسلام کی ایک حیثیت ڈراما نگار کی تھی ، اُن کے ڈراموں (وارث۔سمندر ) کی مقبولیت کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ بنیادی طور پر وہ ڈراما نگار تھے۔ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص درجۂ اوّل کا شاعر ہو اور ساتھ ہی درجۂ اوّل کا ڈراما نگار بھی۔ (راقم نے اُن کے افسانے بہت کم پڑھے، نہ پڑھنے کے برابر، اس لیے اُن پر کوئی رائے نہیں دے سکتا۔)                 ۱۹۷۴ء میں راقم نے ایک کتاب مرتّب کی: اصنافِ ادب۔ اِس میں ہر صنف کا تعارف کرانے کے بعد اُس کے نئے پرانے نمونے دیے گئے تھے۔عنوان  “نعت” کےتحت نئی پرانی نعتوں کے کچھ نمونے تھے۔ آزاد نعت کے نمونے کے طور پرمیں نے امجد اسلام کی حسبِ ذیل نعت شامل کی۔ (جو مجھے بہت پسند تھی اور آج بھی ہے): اَبر،خورشید،قمر   روشنی،پھول،صدا   سب تھے موجود مگر   ان کا مفہوم نہ تھا   کوئی بھی چیز،کوئی چیز نہ تھی   سِرِّ مخفی تھا خدا   کوئی تخلیق نہ تھی   حرفِ اقرار نہ تھا   مہرِ توثیق نہ تھی   سنگ اور گوہر نایاب میں تفریق نہ تھی   آپؐ نے سردعناصر کو حرارت بخشی   آپ نے،صلِ ّ علیٰ  اَبر،خورشید،قمر   روشنی،پھول،صدا     سب کو مفہوم دیا     حاجتِ کون و مکاں ،مقصد خلقِ بشر       مجھ پہ بھی ایک نظر         مجھ کو بھی دیجے کبھی          میرے ہونے کا پتا           یا نبی !صلّ ِعلیٰ یا نبی!  صلِّ علیٰ              میراخیال ہے کہ اگر اردو نعتوں کا ایک کڑا انتخاب کیا جائے تو امجد کی یہ نعت اس میں جگہ پائے گی۔             ایک بلند پایہ شاعر اورڈرامانگار اورایک بہت اچھا انسان ہم سے رخصت ہو گیا ۔بڑی محرومی ہے ۔باری تعالیٰ اسے بخشے اور اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے،آمین یا ربّ العالمین۔        18 فروری 2023ء

You cannot copy content of this page