بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ویب سا ئٹ پر ابھی کام جاری ہے۔

علم و ادب کا بحرِ بیکراں : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ایک ایسے صاحبِ علم تھے جو ایک عمر میں کئی عمروں کا کارِ عظیم سرانجام دے جاتے ہیں۔ہاشمی صاحب دیکھنے میں دھان پان تھے مگر کارناموں کے اعتبار سے وہ رستم ہفت خواں تھے۔ اُن کے ساتھ میرا گہرا تعلقِ خاطر پانچ چھ دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ہمارے لڑکپن کا زمانہ ہاشمی صاحب کی جوانی کا دور تھا۔ تب اُن کے ساتھ قربتِ قلبی ہی نہیں قربتِ مکانی بھی تھی۔ وہ سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا کے اے بلاک کی مشہور و معروف عمارت ”دارالرحمت‘‘ میں مقیم تھے۔ یہ عمارت اُن کے چچا حکیم عبدالرحمن ہاشمی نے تعمیر کروائی تھی جو شہر کے ہر دلعزیز حکیم اور دینی شخصیت تھے۔اسی عمارت میں اپنے دور کی معروف علمی و سیاسی شخصیت سیّد اسعد گیلانی بھی فروکش تھے۔ سیّد صاحب کا صاحبزادہ فاروق گیلانی میرا کلاس فیلو تھا۔ اسی عمارت کے بالمقابل اُن دنوں ڈاکٹر خورشید رضوی کی رہائش گاہ بھی تھی۔گویا فطرت نے رفیع الدین ہاشمی جیسے دل کش لالے کی حنا بندی کیلئے انہیں یہ علمی و ادبی اورمعطر ومطاہر فضا مہیا کر دی تھی۔میں سکول کے زمانے سے ہی جب دارالرحمت میں اپنے دوست فاروق گیلانی سے ملنے جاتا تو رفیع الدین ہاشمی صاحب سے بھی علیک سلیک ہو جاتی۔ ہم نے جب کبھی انہیں دیکھا قلم و قرطاس اور کتاب کے ساتھ ہی دیکھا۔ وہ کسی نہ کسی دُھن میں مگن رہا کرتے تھے۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ تم نے کبھی کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ جس نے اپنی زندگی کا کوئی لمحہ ضائع نہ کیا ہو تو بے ساختہ میرے لبوں پر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا نام آ جائے گا۔فی الواقع وہ من المھد الی اللہد کی تصویر تھے۔ وہ ہر وقت پڑھنے لکھنے میں شوق و ذوق کے ساتھ مصروف رہا کرتے تھے۔ یوں تو پروفیسر ہاشمی صاحب نے اکثر اصنافِ ادب پر یادگار کتابیں اور تحریریں نذرِ قارئین کی ہیں مگر اقبالیات پر علمی و ادبی تحقیق اُن کا تخصص تھا۔ ماہرِ اقبالیات کی حیثیت سے اُن کی شہرت چہار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی تھی۔ ہاشمی صاحب اقبالیات پر 72 اور دیگر موضوعات پر 42کتابوں کے مصنف و مؤلف تھے۔ ابھی اوپر میں نے ذکر کیا تھا کہ پروفیسر ہاشمی صاحب زندگی کے آخری سانس تک تحقیق و تصنیف میں مستغرق رہے۔ اُن کی آخری کتاب ”فرنگ میں کوئی دن اور‘‘ کا مسودہ ہاشمی صاحب نے چند روز قبل بسترِ علالت سے اپنے صاحبزادے عمیر ہاشمی کے ہاتھ لاہور ہی میں مقیم استادِ گرامی ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کی طرف بھیجا تھا۔ رضوی صاحب نے 24جنوری کو ایک مفصل ”پیش گفتار‘‘ ہاشمی صاحب کی آخری کتاب پر تحریر فرما دیا تھا۔مگر فرشتۂ اجل نے ہاشمی صاحب کو اپنے محب گرامی خورشید رضوی صاحب کی نہایت خوبصورت اور دلچسپ تحریر پڑھنے کا موقع نہ دیا۔ رفیع الدین ہاشمی 25جنوری کو سفرِ آخرت پر روانہ ہو گئے۔ڈاکٹر خورشید رضوی ہاشمی صاحب کے سفرنامۂ فرنگ کے بارے میں لکھتے ہیں ”ایک اور حیرت جس سے وہ دوچار کرتے ہیں یہ ہے کہ اُن کی ضخیم تصانیف کو دیکھ کر قاری کے ذہن میں اُن کی شخصیت کا جو تصور ابھرتا ہے وہ ایک ژرف بیں محقق کا ہے جسے مطالعے اور علمی و تحقیقی چھان بین سے سر اٹھانے کی فرصت ہی نہیں اور وہ گرد و پیش سے بیگانہ صرف ورق گردانیٔـکتابکادیوانہہے۔یہباتاُنکےقریبیدوستوںکوہیمعلومہےکہوہکرکٹمیںبھیگہریدلچسپیرکھتےہیںاورجہاںبینیوجہاںگردیمیں بھی۔ پہاڑوں کی سیر‘ حسنِ فطرت کے مناظر‘ بادلوں کی دل کشی اور پھولوں کے رنگ انہیں ورڈز ورتھ کی طرح لبھاتے ہیں اور پھر مدتوں تک‘ فرصت کے لمحات میں اُن کی چشمِ باطنی پر جلوہ افروز رہتے ہیں۔ ہاشمی صاحب کا سفرنامۂ برطانیہ ”فرنگ میں کوئی دن اور…‘‘ آپ کے سامنے ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ عنوان علامہ اقبال کے شعر سے ماخوذ ہے ؎فرنگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہر جاؤںمرے جنوں کو سنبھالے اگر یہ بھی ویرانہڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے اقبالیات پر بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیر و سیاحت کیلئے پندرہ ممالک کا سفر کیا تھا۔ ان ممالک میں سپین‘ ترکی‘ بھارت‘ جاپان‘ فرانس‘ برطانیہ اور سعودی عرب نمایاں تھے۔قرطبہ میں انٹرنیشنل اقبال کانفرنس 21تا 24 نومبر 1991ء کو منعقد ہوئی تھی۔ میں اُن دنوں طائف میں مقیم تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے سعودی عرب آنے کی اطلاع دی تو ہم نے مکۃ المکرمہ میں اُن کا خیر مقدم کیا اور حرم مکی کے قریب ایک ریستوران میں مختصر تقریب کا اہتمام بھی کیا تھا۔ ڈاکٹر ہاشمی صاحب کے ساتھ معروف اقبال شناس پروفیسر محمد منور مرزا اور محمد سہیل عمر بھی کانفرنس میں مدعو تھے۔ میرے دل میں ”اندلس‘‘ کی سیاحت کا شوق تو موجود تھا مگر ان محبّانِ اقبال کی گفتگو نے اس شوق کیلئے مہمیز کا کام کیا‘ لہٰذا مکۃ المکرمہ کی اس یادگار ملاقات کے کئی سال بعد میں اپنی زندگی کی ہمسفر کے ہمراہ جرمنی سے بذریعہ کار سپین گیا۔ اقبال کی پیروی میں ہم نے نہایت شوق و ذوق کے ساتھ مسجدِ قرطبہ کی زیارت کی تھی اور وہاں نوافل بھی ادا کئے تھے۔ قرطبہ سے غرناطہ تک کا زیتون کے درختوں کی خوشبو سے بسے ہوئے پہاڑی راستے کا سفر یادگار ہے۔ڈاکٹر ہاشمی صاحب کی زندگی کے کئی تحقیقی کارنامے ایسے بھی ہیں جو شاید بہت سے لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوں گے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کے پرانے دوست ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی 1970ء کی دہائی میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں اُن کے رفیق کار بھی تھے۔ خورشید رضوی صاحب نے اُس زمانے کا ایک نہایت انسپائرنگ واقعہ سنایا۔ آج کے حالات میں یہ واقعہ ناقابلِ یقین لگتا ہے۔ کالج کی تاریخ مرتب کرنے کا کام ان دونوں حضرات کے ذمے لگا ۔اس کام کیلئے دونوں صاحبان نے سرگودھا‘ شاہ پور اور لاہور میں کالج کے کئی پرانے طلبہ اور پروفیسروں سے کئی ملاقاتیں کیں اورنہایت عرق ریزی کے ساتھ یہ تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ شدید موسم میں ڈاکٹر خورشید رضوی اور پروفیسر ہاشمی سائیکلوں‘ بسوں اور تانگوں میں سفر کرتے تھے اور ڈھابوں سے کھانا کھاتے تھے۔ یہ سب کام علم و ادب کے ان متوالوں نے بصد خوشی انجام دیا تھا اور کالج انتظامیہ سے کسی طرح کے سفر خرچ کا کوئی

ڈاکٹر خالد ندیم

اردو زبان و ادب کا کوئی طالب علم ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے نام اور کارناموں سے بے خبر نہیں۔ اقبالیات پر جتنا کام تنہا اس عالمِ بے بدل نے کیا، اقبالیات کی پوری تاریخ اس کی مثال نہیں دے سکتی۔ فکرِ اقبال کے فروغ کے لیے انھوں نے زندگی وقف کر رکھی تھی۔ ان کی پہلی باقاعدہ تصنیف ’اقبال کی طویل نظمیں‘ اور آخری ’کتابیاتِ اقبال‘ تھی۔ گویا وہ زندگی بھر فکرِ اقبال کے فروغ میں کوشاں رہے۔ تحقیق، تدوین، تنقید، ترجمہ، ترتیب، سفرنامہ، خاکہ نگاری، افسانہ نویسی، کتنے ہی شعبہ ہاے ادب ان سے فیض یاب ہوئے۔ اگرچہ ان کی تصانیف و تالیفات کے موضوعات میں خاصا تنوع ہے، لیکن ان کی توجہ زیادہ تر علامہ اقبال پر مرکوز رہی۔ یہ بھی ہے کہ ان کی تمام تحریروں میں مسلم تہذیبی روایات کے فروغ اور صالح کردار کی تعمیر کی کوشش ملتی ہے۔ وہ صحیح معنوں میں اسلامی ادب کے علمبردار تھے۔ مَیں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا کلاس روم شاگرد نہیں ہُوں، وہ پی ایچ ڈی میں میرے نگران تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مَیں نے ایم اے تک جو کچھ سیکھا ، وہ ایک طرف اور ڈاکٹر صاحب کا فیض ایک طرف۔ مَیں معترف ہُوں کہ میرے قلم کو انھیں کی وجہ سے تخلیقِ لفظ کا شعور مِلا اور میری تصانیف کے پیچھے انھیں کی تربیت کارفرما رہی۔ زمانۂ طالب علمی میں ’اقبال کی طویل نظمیں‘، ’خطوطِ اقبال‘ اور ’اقبال بحیثیت شاعر‘ جیسی وقیع کتابیں مطالعہ میں آئیں تو میرے لیے گویا ’دبستاں کھل گیا‘ اور پھر فکرِ اقبال کو سمجھنےکے لیے قلب و ذہن تیار ہو گئے۔ پی ایچ ڈی کے لیے مجھے ترقی پسند تحریک کے فکری بانی ڈاکٹر اختر حسین راے پوری کی شخصیت اور فکر و فن پر کام کا موقع ملا، لیکن نگرانی کی ذمہ داری ڈاکٹر صاحب پر عائد ہوئی۔ یار لوگوں نے بہت سمجھایا کہ بھائی! ڈاکٹر صاحب کی نگرانی میں راے پوری جیسی شخصیت پر کام کرنا سہل نہیں رہے گا، جگہ جگہ ان کی مداخلت ہو گی اور آپ پریشان ہو جائیں گے؛ لیکن انھوں نے دَورانِ تحقیق ایک موقع پر بھی فکری مداخلت نہ کی، بلکہ مقالے کو دیکھ کر نہایت خوش ہوئے اور فوراً دستخط ثبت کر دیے۔ وہ اپنے شاگردوں کی تربیت نہایت خاموشی سے کرتے کہ خود ان کے شاگردوں کو بھی معلوم نہ ہو پاتا۔ وہ اپنی تصانیف و تالیفات پروف خوانی یا اشاریہ سازی کے لیے دے دیتے۔ ممکن ہے، بعض شاگرد اسے ’خدمت ‘ یا ’بار‘ سمجھتے ہوں، لیکن حقیقتاً اس طریقے سے وہ انھیں تصنیف و تالیف کی سوجھ بوجھ عطا کر رہے ہوتے تھے۔ بارہا رات گئے فون کرتے اور کسی کتاب کا حوالہ، کسی کا صفحہ یا کسی شعر کا پوچھ لیتے، لیکن مجھے معلوم تھا کہ مجھے چوکس رکھنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ وہ شاگردوں کو اعتماد دینے کے لیے اپنی تحریروں پر ان کا نقطہ نظر معلوم کرتے تھے اور جہاں کہیں انھیں محسوس ہوتا کہ ’حقِ شاگردی‘ ادا کیا جا رہا ہے، بعض تسامحات کی طرف خود اشارہ کر دیتے۔ اپنی تحریروں کو تبصرہ کے لیے دیتے، لیکن کبھی اپنی راے کا اظہار نہ کرتے۔راقم نے ان کی پانچ چھ کتب کا تجزیہ کیا اور ان میں سے بعض مقامات کی نشاندہی بھی کی، جسے ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف سراہا، بلکہ آئندہ اشاعتوں میں اسے پیشِ نظر بھی رکھا۔ کوئی شاگرد کسی کتاب میں معاونت کرتا تو دیباچے میں، بلکہ متعدد کتب میں ابتدائی صفحات پر جلی انداز میں اس کا اعتراف کرتے۔یہ کام ظرف کے بغیر ممکن نہیں، ورنہ ہمارے ہاں کتنے ہی مصنفین ہیں، جو خوردوں کے اعتراف سے پہلو تہی کرتے رہے ہیں۔ بعض لوگ ڈاکٹر صاحب کو مردم بیزار سمجھتے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انھیں وقت ضائع کرنا گوارا نہ تھا، البتہ علم و عرفان کے متلاشیوں کے لیے ان کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔ کوئی فون آ جاتا تو ضرور سنتے۔ اگر کسی مصروفیت کی وجہ سے نہ سن سکے تو فرصت پاتے ہی رابطہ کرتے۔ اپنے دوستوں سے طویل گفتگو سے بھی وہ تنگ نہیں آتے تھے۔ اپنے اسکالر کے ساتھ رابطہ رکھتے، بلکہ بعض کے ساتھ تو رابطوں میں پہل کرنے میں بھی انھیں عار نہ تھی۔ شاگردوں کے فون سننا اور ان کی رہنمائی کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے، حتیٰ کہ انھوں نے اپنے شاگردوں کے شاگردوں کو بھی کبھی مایوس نہیں کیا۔ وقت کی قدر و قیمت کو ان سے بہتر شاید ہی کوئی سمجھ سکا ہو۔ ان کے خیال میں ایک منٹ کا مصرف بھی ہوتا ہے اور پورے دن کا بھی، چنانچہ وہ کسی لمحے کو ضائع نہیں ہوتے دیتے تھے۔ ایک مرتبہ بیمار پڑ گئے تو ڈاکٹر نے ڈرِپ تجویز کی۔ ڈرِپ لگ گئی تو دائیں پہلو کی جیب سے چند کاغذات نکال لیے اور لیٹے لیٹے پڑھنے لگے۔ ڈاکٹر حیران ہوا، کہنے لگے کہ ڈرِپ اپنا کام کر رہی ہے، مَیں اپنا وقت کیوں ضائع کروں۔ اسی طرح ایک مرتبہ شدید بیمار ہوئے تو مَیں نے از راہِ ہمدردی عرض کیا کہ ڈاکٹر صاحب! چند دن آرام کر لیجیے، کام بعد میں ہوتا رہے گا۔ فرمانے لگے، میاں! اگر مَیں آپ کے مشورے پر عمل کرتا تو آج تک کچھ نہ کر پاتا۔ فرصت کے لمحات کا انتظار کرتا رہوں تو زندگی یوں ہی گزر جائے۔ ان کا ایک پھیپھڑا ان کے زمانہ طالب علمی (ایف اے) سے کام کرنا چھوڑ گیا تھا اور پھر ان کی جسمانی صحت بھی شاید کبھی قابلِ رشک نہیں رہی تھی، اس پر مستزاد یہ کہ وہ سال میں کم از کم ایک دو بار پریشان کن صورتِ حال کا شکار بھی ہو جاتے؛ لیکن مجال ہے کہ کبھی اپنے معمولات میں فرق آنے دیا ہو۔ صبح سویرے مسجد میں جانا، سیر کرتے ہوئے منزل کو دہرانا، سارا دن مطالعہ و تحریر و تصنیف میں مصروف رہنا اور اس دَوران اذان کی آواز سنتے ہی سب کچھ چھوڑ چھاڑ مسجد کا رُخ کرنا ان کے معمولات میں شامل رہا۔ ان کے کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے، سونے جاگنے، پہننے اوڑھنے میں اس قدر باقاعدگی تھی کہ بعض اوقات گھبراہٹ ہوتی تھی کہ الٰہی! کیا کبھی ہم

سید عرفان گیلانی (کوپن ہیگن،ڈنمارک)

یہ اللّہ کا نظام ہے۔ ہم جہاں سے آۓتھے،جوعہدکرکےآۓتھے،وہاں لوٹ کرایفاۓعہدکوثابت کرناہے۔انسان عہدکرنےمیں توبڑی عجلت دکھاتاہے،لیکن عہدکے تقاضے پورے کرنے میں سستی و کوتاہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ سواۓان نفوس کےجواس عہدوپیمانکوجوانھوں نےکیاتھا،اسکواپنی زندگی کامشن بنالیں۔رفیع الدین ہاشمی صاحب کاشماربلاشبہ ایسے ہی سعیدنفوس میں ہوتاہےجنہوں نےاوائل نوجوانی سےآخری سانسوں تک اپنے شب و روز ملک و ملت کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھے۔ اور جو بات قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ یہ کام انھوں بڑی خاموشی سے، ہر قسم کی خودنمائی سے اجتناب کرتے ہوۓکیا۔انکاعلمی مقام بہت بلندتھا۔لیکن مجال ہےکہ وہ کسی پراس کارعب جمانےکی ادنی ٰسی کوشش بھی کرتےہوۓ کبھی پاۓگئے ہوں۔انکسارکایہ مقام،کہ علمیت کےہمالیہ پرکھڑےہونےکےباوجودآپ اپنےآپکوایک طالبِعلم کی طرح سمجھیں اور behave کریں، میں نے اپنی زندگی میں انکے علاوہ استاذی ظفر اسحاق انصاری صاحب کے علاوہ آج تک کسی میں نہیں پایا۔ ہاشمی صاحب سے میرا تعلق غالباً ۱۹۹۶ء سے قائم ہوا اور چند سالوں میں کافی گہرا ہو گیا۔ حدِ ادب کے لحاظ کیساتھ اور انکی خصوصی شفقت و انکساری کے باعث یہ تعلق استاد و شاگرد سے زیادہ دو ہم فکر احباب کا تھا جو عمر کے تفاوت کے باوجود پاکستان کے علمی، فکری و نظری منظر نامے کے حوالے سے بیک وقت پریشان بھی تھے اور اس کے حل کے لیے سوچ و بچار بھی کرتے رہتے تھے۔ مثلاً، ۲۰۱۰ء میں ہاشمی صاحب نے اپنی کتاب “علامہ اقبال: شخصیت اور فکر و فن” عنایت فرمائی ۔ مطالعے کے بعد میں نے کتاب کی تعریف کرتے ہوۓانسےعرض کیاکہ میرےخیال میں اس کتاب کومیٹرک یا پھر ایف اے کے نصاب میں شامل ہونا چاہیے۔ ہاشمی صاحب کا جواب تھا کہ آپ میٹرک و ایف اے کی بات کر رہے ہیں، حالات تو کچھ ایسے ہیں کہ یہاں کا ایم اے کا طالبِ علم بھی اس کتاب کو مشکل سے پڑھے! لیکن اس کے باوجود انھوں نے کبھی بھی مایوسی کو اس انداز سے اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیا کہ وہ کام کرنا چھوڑ دیں، کیونکہ وہ کام کسی داد و تحسین، یا پھر مال و متاع کے لیے نہیں بلکہ خدمت کے جذبے سے کرتے تھے۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور جس نے ہاشمی صاحب کو دیکھا، ان سے ملا، ان سے بات کی، وہ جانتا ہے کہ وہ اس اعتبار سے کتنے خالص آدمی تھے۔ مولانا مودودی ملک و ملت کے لیے جس قسم کے لوگ تیار کرنا چاہتے تھے، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی ذات اس کی بہترین نمائندہ تھی۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے ان کو اپنا ایک مضمون تصحیح کے لیے بھیجا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں آپ نے ٹھیک لکھا ہے۔ میں نے اصرار کیا کہ اغلاط ہونگی، آپ تصحیح فرما کر ہی واپس کریں۔ بڑے اصرار کے بعد انھوں نے سرخ سیاہی کے قلم سے اکا دکا مقامات پر اغلاط کی نشاندہی کی(حالانکہ مجھے یقین ہے کہ اغلاط س زیادہ ہوں گی)۔ مثلاً، میری عادت ہے کہ بعض الفاظ کو جوڑ کر لکھتا ہوں۔ وہ اس کے قائل نہ تھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ انھوں نے اصلاح فرمائی کے برادرِ خورد کوئی اچھی اصطلاح نہیں، اور کیوں نہیں اس کی بھی وضاحت فرمائی ۔ تقریباً تیس سال پر محیط تعلقات میں اس طرح محسوس و غیر محسوس انداز سے ان سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا۔ ۲۰۱۰ء کے بعد میرا ان سے مسلسل اصرار رہا کہ جس طرز پر آپ نے علامہ اقبال پر کتاب لکھی ہے اسی انداز سے آپ مولانا موددی پر بھی لکھیں۔ وہ اس بات کی اہمیت سے متفق تھے لیکن وہ کتابیاتِ اقبال کی ذمہ داری اٹھا چکے تھے اور اسکی تکمیل کے بعد ہی مولانا مودودی کی سوانح حیات پر دلجمعی سے کام ممکن تھا۔ کتابیاتِ اقبال کی رونمائی تو ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۲ کو ہوگئی، لیکن افسوس کے اب ہاشمی صاحب کے قلم سے مولانا پر کام مکمل نہ ہو پائگا۔۔۔ ۲۰۱۶کو میں اپنی زندگی میں غم کا سال شمار کرتا ہوں کہ ایک ہی سال میں اپنے تین مربیوں، ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب، ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب اور پروفیسر مسلم سجاد صاحب، تینوں اللّہ کو پیارے ہوۓ۔ابھی یہ غم ہراتھاکہ بیچ سفر میں میرے ہر دلعزیز دوست و بھائی حسن صہیب مراد کا ۲۰۱۸ میں ساتھ چھوٹ گیا۔ اس کے بعد رخصت تو کئی لوگ ہوۓ،انکاغم بھی ہوا،لیک نرخصت ہونےوالےمربیوں ومحسنین  کی فہرست میں رفیع الدین ہاشمی صاحب کا اضافہ آج بہت تکلیف دہ ثابت ہو رہا ہے۔ اللّہ تعالیٰ انکو بلاحساب جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرماۓ۔ دفترِ ہستی میں تھی زریں ورق، تیری حیات تھی سراپا دین و دنیا کا سبق، تیری حیات ٭….٭….٭

مرنے والے کی جبیں روشن ہے اس ظلمات میں:از وقاص انجم جعفری

از وقاص انجم جعفری ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کو بھی باری تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں طلب کر لیا۔ ان کے بارے میں سوچنے بیٹھوں تو سب سے پہلے یہ اشعار ذہن میں آتے ہیں۔ زندگانی را بقا از مدعاست کاروانش رادرااز مدعاست زندگی درجستجوپوشیدہ است اصل او در آرزو پوشیدہ است زندگی کی بقا مقصد سے ہے۔ یہ وہ کارواں ہے جس کی درا مقصدیت ہے۔ زندگی جستجو کا نام ہے اور اس کی اصل آرزو میں پوشیدہ ہے۔ فکر اقبال کی جستجو میں انہوں نے اسرارِ خودی کے ان اشعار کو یوں حرزِ جاں بنا لیا تھا کہ لگتا ہے اس کے علاوہ بقیہ اشیاء ان کیلئے بے معنی ہو گئی تھیں۔ ہر وقت تحقیق میں مگن، ہر دم جستجو میں غلطاں، انہیں جب بھی دیکھا کسی نہ کسی نئے علمی منصوبے کی تیاری یا تکمیل کے مراحل میں مصروف دیکھا۔ اس دھان پان سے آدمی کو خدا نے اتنا بڑا ذہن دیا تھا کہ وہ کسی حالت میں تھکتا ہی نہ تھا، بدن تھک جائے تو اور بات ہے۔ یہ بھی ایک عجیب تضاد تھا۔ ایک دفعہ والد محترم،ان سے ملاقات کے لئے تشریف لے گئے، تو ھاشمی صاحب محو استراحت تھے، مل نہ سکے۔ بعد میں رقعہ بھیجا کہ معذرت چاہتا ہوں، دن کو قیلولہ نہ کروں تو بیٹھا نہیں جاتا، کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ درجنوں کتابوں کی ترتیب، تصنیف و تالیف اور اس کے ساتھ ساتھ تدریس پھر مولانا مودودی پر کام، ڈاکٹر صاحب صحیح معنوں میں ’’جناتی‘‘ انسان معلوم ہوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ہمیشہ میں تعجب کا شکار رہا کرتا تھا کہ یہ آدمی اپنے کام کا ایسا غواص ہے کہ ہر دفعہ کوئی نیا موتی ڈھونڈ لاتا ہے لیکن زندگی اور اس کے چھوٹے چھوٹے مسائل سے ایسا بے گانہ ہے کہ اسے کسی شے کی جستجو ہی نہیں۔ ابھی چند ماہ پہلے ڈاکٹر مشتاق مانگٹ صاحب کے سفرنامہ ہندوستان کی تقریب پذیرائی پر پنجاب یونیورسٹی میں تشریف لائے۔ ہم نے اپنے تئیں انہیں مہمان خصوصی قرار دیا تھا، جبکہ ڈاکٹر صاحب ایسے شرمیلے اور ایسے کم گو کہ منٹ دو منٹ بات کر کے اسٹیج سے اتر آئے۔ نہ علمیت کا کوئی زعم نہ امتیازی سلوک کا مطالبہ۔۔۔۔۔۔۔ گمان ہے کہ انہیں گوہر مراد اپنے کام سے مل جاتا ہو گا اس لیے لوگوں سے کبھی انہیں اپنے لیے کچھ طلب کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ لوگ خود اتنی عزت کرتے تھے تو اس پر بھی شاید دل میں حیران ہوتے ہوں کہ بھئی جو شے میں نے ڈھونڈ کر نکالی ہے اس کا لطف تو میں ہی جانتا ہوں اور میرا معاوضہ بھی اس کا حصول ہی تھا، تم مجھے کیوں پلکوں پر بٹھاتے ہو!!! میں تو جو پانا چاہتا تھا پا چکا؟ جاوید نامہ: مئے دیرینہ و معشوقِ جوان چیزی نیست پیشِ صاحب نظران حور و جنان چیزی نیست پرانی شراب اور خوبصورت محبوب کیا شے ہے۔ صاحب نظر کے سامنے حور و جناں کی کوئی وقعت نہیں۔ ہاشمی صاحب کا تعلق سرگودھا کے جس خاندان سے ہے ،وہ مجازاً نہیں حقیقتاً “ایں خانہ ہمہ افتاب است”ہے۔حکیم عبدالرحمان ہاشمی،حکیم عبدالعزیز ہاشمی،ڈاکٹر فرحت ہاشمی،نگہت ہاشمی،ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی۔ ان بزرگوں کا فیض،ہمارے ہم عمرو ہم عصر ، خالد فاروق بسرا،ڈاکٹر محمود زبیری،پروفیسرایوب منیر،خالد محمود، یحیی عبدالعزیز،محبوب ہاشمی اور شعیب ہاشمی کی صورت میں جاری وساری ہے۔میانوالی کے قیام کے دور میں تو ہم حکیم عبدالعزیز ہاشمی سے معنوی طور پر بیعت تھے،جن کا ‘مطب’ ہم جیسے نوآموزوں کے لئے شفقت ورہنمائی،میزبانی ومہربانی کے عنوانات لئے ہوئے تھا۔مجھے یقین ہے کہ شعروادب اور علم وفن کی مشترکہ لڑی میں پروئے ہونے کے سبب ابو جان مرحوم (سید انجم جعفری) کی رفیع الدین ھاشمی صاحب سے ضرور یاداللہ ھوگی۔ لاہور منتقل ہونے کے بعد ان دونوں بزرگوں کی ملاقاتیں ،کتب کے تبادلے اور خطوط سے یہ بات ثابت بھی ہوگئی۔ڈاکٹر صاحب کو خدا نے بڑی باریک بیں فطرت سے نوازا تھا۔ یہی نظر تحقیق کیلئے موزوں ہوا کرتی ہے۔ ابو جان کے ساتھ ان کو جو پاس مروت تھا اس کا اندازہ اس بات سے ہوا کہ ان کی وفات کے کئی سال بعد ابھی دو سال پہلے ڈاکٹر صاحب کی جانب سے ایک خط موصول ہوا۔ ساتھ کسی اخبار کا تراشا منسلک تھا جو کسی اخبار میں سید انجم جعفری کی کتاب پر چھپنے والے تبصرے سے متعلق تھا۔ مختصر خط میں فرمایا کہ یہ پرانے کاغذات سے برآمد ہوا۔ ممکن ہے آپ کی تحقیق میں کام آئے۔ کہا تو سب کے بارے میں جاتا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب نے واقعی بڑی سادہ زندگی گزاری ہے۔ روزگار کے سلسلے میں تدریس جیسے بے ضرر شعبے سے منسلک تھے۔ علمی کام کرنے والوں کیلئے یہی شعبہ موزوں ترین ہے۔ بنیادی ضروریات یہاں سے پوری ہو جاتی ہوں گی اور ان کے علاوہ انہیں کسی شے سے غرض ہی نہ تھی۔ ممکن ہے کہ اگر انہیں وزیر بنانے کی پیشکش کی جاتی تو یہ کہہ کر صاف انکار کر دیتے کہ میری کتاب کا ہرج ہوتا ہے۔ یہ کام بھی ایسا ہے کہ بڑی بڑی چیزوں سے انسان کو بے نیاز کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس بے نیازی کی عملی تصویر تھے۔ کاروبار دنیا کسی کے آنے یا جانے سے رک نہیں جاتا۔ علمی و تحقیقی کام پہلے بھی جاری تھے اور اب بھی جاری رہیں گے۔ لیکن وہ بے غرضی وہ بے لوثی جو صرف دیوانوں کا حصہ ہوتی ہے، اب کہاں دیکھنے کو ملے گی۔ ایام جوانی میں ایک استاد نے نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سلسلہ روزگار جاری رکھو لیکن علمی کام کرنا چاہو تو وہ کرنا جس میں تمہیں کسی معاشی فائدے کی توقع نہ ہو۔ اس وقت ان کی بات سمجھ نہیں آئی تھی لیکن اب لگتا ہے کہ ایسا کام بے غرضی سے ہی کیا جائے تو وہ سکون نصیب ہوتا ہے جو آدمی کی شخصیت کو مکمل کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت بھی ایسے پزل کی مانند تھی جس میں کوئی خانہ خالی نہ تھا۔ آرزو کو خون رلواتی ہے بیداد اجل مارتا ہے تیر تاریکی میں صیاد اجل کھل نہیں سکتی شکایت کے لیے لیکن زباں ہے خزاں کا رنگ بھی وجہ قیام گلستاں ایک ہی قانون عالم

کہاں ہے اب کوزہ گر : ڈاکٹر خالد ندیم

(یہ نظم ڈاکٹر خالد ندیم صاحب نے 31 جنوری 2024 کو اقبال اکادمی پاکستان کے زیر اہتمام رفیع الدین ہاشمی مرحوم کے تعزیتی ریفرنس میں پڑھی۔ ڈاکٹر خالد ندیم کے شکریے کے ساتھ پیش کی جارہی ہے۔) کہاں ہے اب کوزہ گر جو ہر دن اک نیا کوزہ بناتا تھا پھر اس کو اپنی سانسوں کی حرارت سے پکاتا تھا چلیں ڈھونڈیں وہ کوزہ گر کہ اپنے خشک کوزوں کو نگاہوں کے کئی رنگوں سے یوں رنگین کرتا تھا کہ سب حیران ہوتے تھے فقط حیراں نہیں، ان کو پریشانی بھی ہوتی تھی وہی مٹی، وہی گارا، وہی حدت، وہی روغن مگر ناکام رہتے تھے کہ یہ خون جگر تک ان میں شامل کرتا رہتا تھا تبھی تو اس کے کوزوں میں حرارت زندگانی کی سبھی محسوس کرتے تھے کہاں ہے اب وہ کوزہ گر کہاں ہے اب وہ کوزہ گر؟ جو زیب و اختر و قاسم کو راہ نو دکھاتا تھا کوئی ہارون آتا تو تبسم لے کے جاتا تھا وہ مجھ ان گھڑ کی خاطر وقت اپنا صرف کرتا تھا کئی فاروق و آصف اور گلشن اس کے دامن میں چلے آئے، مگر جاتے ہوئے گوہر کی صورت تھے کہاں ہے اب وہ کوزہ گر کہاں ہے اب وہ کوزہ گر؟ کسی گمنام کو لے کر ظفر تخلیق کر دیتا کوئی ناشاد ہوتا تو اسے شاعر بناتا تھا عزیز جاں کوئی ہوتا، اسے ساحر سمجھتا تھا کوئی ایوب مل جاتا، اسے صابر بنا دیتا ہزارہ میں کلور ان سے اگر صابر ملا دیتا اسے تدوین کی رہ پر لگا دیتا مگر خالد ندیم اس بات کو بھی دھیان میں رکھو وہ کوزہ گر، اسی دوران میں خود بھی تو کوزہ تھا جو ہر پل دوسروں کی پیاس سے بیتاب رہتا تھا پلاتا تھا ہر اک کو، تشنہ لب رہنے نہ دیتا تھا مگر سوچو کہ اک کوزہ اگر دوجے کو بھرتا ہو تو خود بھی خالی ہوتا ہے اگر لبریز ہو، پھر بھی کمی تو آ ہی جاتی ہے کمی آتی ہی جاتی ہے خبر ہونے نہیں پاتی کہ پھر آہستہ آہستہ وہ کوزہ گھلنے لگتا ہے اور ایسے گھلنے لگتا ہے کہ پھر گھلتا ہی جاتا ہے مگر چپ چاپ گھلتا ہے پھر اک دن خاک ہو کر دور نظروں سے وہ یوں جاتا ہے کہ پھر لوٹ کر آنے کا وعدہ بھی نہیں کرتا ٭….٭….٭

چند یادیں چندباتیں : ڈاکٹر افتخار شفیع

ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی نہ رہے،رہے نام اللہ کا۔ معروف ماہراقبالیات ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور میں شعبہ اردو کے سربراہ رہے لیکن ان کا یہ تعارف کافی نہیں۔ ان کی علمی وادبی کاوشوں سے میری شناسائی تو ایک مدت سے تھی لیکن باقاعدہ تعلق بہت بعدمیں قائم ہوا۔یہ آج سے کوئی پندرہ بیس برس اُدھر کاواقعہ ہے،مجھے امریکہ سے پنجاب یونیورسٹی کے ایک سابق کتاب دارعبدالوہاب خان سلیم صاحب کا فون آیا۔وہ ایک رسالے میں شائع ہونے والے میرے مضمون کے بارے میں کچھ استفسار کرنا چاہتے تھے۔میں نے حیران ہوکر پوچھا ،:آپ تک میرا یہ مضمون کیسے پہنچا؟۔انھوں نے بتایا ،©”مجھے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب نے اس کی عکسی نقل پوسٹ کی تھی۔حج کے سفرناموں میں ہمارے لیے دلچسپی کا خاصا موادموجود ہے“۔ان دنوں بہت کم لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرتے تھے۔علم وادب کے دیوانے زیادہ ترخط لکھا کرتے ہیں۔نامانوس ٹکٹوں والے لفافوں میں کاغذاورقلم کے ذریعے دل کی باتیں کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔اس کے بعدان دونوں بزرگوںعبدالوہاب خان سلیم اور رفیع الدین ہاشمی (اب دونوں مرحومین)سے میرے تعلق کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ایسے قیمتی لوگ اب آہستہ آہستہ معدوم ہوتے جارہے ہیں ،ہاں کتابوں میں ان کا تذکرہ ضرور ملتا ہے۔بلاشبہ ایسی شخصیات سے تعلق پرفخر کیا جاسکتا ہے۔ مختار صدیقی کا شعر ہے:نکتہ وروں نے ہم کوسجھایا خاص رہو اورعام بنوبستی بستی صحبت رکھو دنیامیں گم نام رہوہاشمی صاحب اردو زبان وادب کے عظیم اساتذہ کی اس روایت سے تعلق رکھتے تھے جس میں مولوی محمدشفیع ،حافظ محمودشیرانی ڈاکٹرسیدعبداللہ،ڈاکٹر عبادت بریلوی،ڈاکٹر وزیرالحسن عابدی اور پروفیسر وقار عظیم جیسے لوگ شامل ہیں۔ان کی علمی وادبی خدمات کی تفصیل بیان کرنے کا محل نہیں۔اس مختصر سے کالم میں تو بس ایک ہلکی سی چھب ہی دکھائی جاسکتی ہے۔ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی سے میری چندملاقاتیں ہیں۔ان کے معمولات ِزندگی دیکھ کر ان کی عظمت کا اندازہ ہوتا تھا۔ استاذی پروفیسر ڈاکٹرعبدالعزیز ساحرنے ایک ملاقات میں بتایا کہ جن دنوں وہ مری کے مرحوم گورنمنٹ کالج(اب کوہسار یونیورسٹی)میں تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے ۔ ہاشمی مرحوم چندروز کے لیے ان کے ہاں مقیم رہے ۔انھوں نے مشاہدہ کیا کہ ہاشمی صاحب صبح سویرے اٹھتے ،نمازپڑھتے اورسیر کونکل جاتے تھے۔ان کے پاس جیبی سائز کا قرآن پاک کاایک نسخہ تھا۔وہ سیربھی کرتے جاتے اور منزل بھی پڑھتے جاتے تھے۔بہت سے معاملات میں وہ اصول وضوابط کے پابند تھے۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بہت مصروف زندگی گزاری،درس وتدریس کے علاوہ برصغیر کے مختلف شہروں سے وفود ان سے ملنے کے لیے آتے۔عائلی زندگی معاملات بھی خوش اسلوبی سے انجام پاتے۔ پنی انسٹھ سالہ زندگی میں انھوں نے متعدد کتابیں لکھیں، شاہ صاحب سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اتنی مصروفیات کے باوجود تصنیف وتالیف کا بہت سا کام کیسے کرلیا؟۔ انھوں نے فرمایا کہ،” عزیزمکرم! میں وقت کی لمبائی کے ساتھ ساتھ اس کی گہرائی کو بھی استعمال میں لاتا ہوں“۔ ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی مرحوم سفروحضرمیں اپنے معمولات کو ایک خاص ترتیب سے انجام دیتے تھے ،ان کے ہرعمل میں ایک توازن دکھائی دیتا تھا۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف تھے،یہاں محض ان کے اقبال شناسی کے سرمائے کا تذکرہ کرنا مقصود ہے۔ اس دھان پان سے آدمی نے اس موضوع پر اتنی کتابیں لکھیں،کہ بقول شخصے اگر” ان کتابوںکاوزن کیا جائے تو ہاشمی صاحب کے اپنے وزن سے کچھ زیادہ ہی ہوگا“۔ ہمارے دوست ذوالکفل بخاری مرحوم اہل علم کی زیارت کے شائق تھے،ایک دفعہ سید ابوالحسن علی ندوی کی زیارت کے لیے بطورخاص کراچی کا سفرکیا۔ ہاشمی صاحب کا معاملہ اس سے متضاد تھا۔ وہ جب بھی میرے شہر سے گزرتے، فون کرکے اطلاع دیتے، مختصر قیام میں زیارت کا موقع مل جاتا، واپسی پر بھی ان کا یہی معمول ہوتا تھا۔ جب بھی کسی کانفرنس میں ملاقات ہوتی تواپنے دولت کدے پر تشریف لانے کا حکم دیتے، ملاقات میں تاخیر ہونے کا شکوہ بھی کرتے ۔ہم نے اپنے کالج کے شعبہ اردو کے زیرتحت ”اقبال اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“کے عنوان سے ایک کانفرنس کروائی ، مہمان کے طور پر بطور خاص انھیں مدعو کیا۔ کانفرنس کے بعد وارڈن ہاو¿س میں ظہرانہ تھا۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ یہ وہی گھر ہے جہاں علامہ اصغرعلی روحی کے صاحب زادے اورعربی زبان وادب کے استاد ڈاکٹرصوفی ضیا ءالحق بھی مقیم رہے۔اسی وقت ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کو فون ملایا اور بڑے فخرسے بتا یا کہ” اس وقت ہم آپ کے مہربان استاد کی روح کی خوشبو کو محسوس کررہے ہیں“۔یادرہے کہ ڈاکٹر خورشیدرضوی کو اپنے ان استاد سے بے پناہ محبت اورعقیدت ہے۔ ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی کو مختلف غیر ممالک میں جانے کا موقع بھی ملا۔انھوں نے اپنے ان اسفار کی ڈائری بھی لکھی ہے۔ان کے سفرناموں میں ایک ایسے انسان سے ملاقات ہوتی ہے جو اصل معنوں میں ”سیروافی الارض “کے ارشادعالیہ کے تابع ہے۔ایک جگہ انھوں نے اندلس(اسپین) کے سفر نامے میں ضمیمے کے طور پر فرانس کے ایک یادگار سفر کی روداد بھی شامل کی ہے۔ان دنوں ےورپ شدید سردی کی لپیٹ میں تھا۔ ڈاکٹر رحمت اللہ کی ر ہنما ئی میں ہاشمی صاحب نے پیرس کے گلی کوچوں میں شانزالیزے اور فتح محراب،آئفل ٹاور،نپولین کا مقبرہ اور فوجی عجائب گھر وغیرہ کا کی سیرکا خوب تذکرہ کیا ہے ۔اس کے باوجو د فرانس میں ان کا خاص مقصد عالمی شہرے یافتہ مبلغ اسلام ڈاکٹر حمید اللہ (مرحوم)سے ملاقات کرنا تھا۔انھوںنے اس تفصیلی ملاقات کو باقاعدہ مکالماتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اخوان المسلمین کے امیرسیدحسن البناءسے کسی نے پوچھا کہ آپ نے کتابیں تصنیف نہیں کیں؟۔ انھوں نے جواب میں کہا، ”انااصنف الرجال(میں انسان تصنیف کرتا ہوں)“۔ ہاشمی صاحب نے کتابوں کے ساتھ ساتھ انسان بھی تصنیف کیے ۔ان کی یہ کتابیں شاگردوں کی صورت میں موجود ہیں۔ان نیک نام شاگردوں میں ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر، ڈاکٹر ظفرحسین ظفر، ڈاکٹر بصیرہ عنبرین، ڈاکٹر وحیدالرحمان خان، ڈاکٹر زاہدمنیرعامر، ڈاکٹر خالد ندیم ڈاکٹرصابرکلوروی،ڈاکٹر عطش درانی، ڈاکٹر جاویداصغر، ڈاکٹر ایوب منیر،ڈاکٹر محمدکامران اور بہت سے دوسرے لوگ شامل ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ہاشمی صاحب کے دوست عبدالوہاب خان سلیم زندہ ہوتے تو ان کا وفات پر قطعہ تاریخ ضرور لکھتے ۔میں مبتدی ہوں لیکن ان کے حوالے سے اپنی ایک نظم کے دوشعر قارئین کی

چند یادیں : از خورشید ندیم

25 جنوری کو ہمارے عہد کے بڑے اقبال شناس ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اقبال کا ایک طالب علم ہی جان سکتا ہے کہ بزمِ اقبال کیسے ندیم سے خالی ہو گئی:جان کر من جملۂ خاصانِ مے خانہ مجھےمدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھےاقبال کی دنیا میں قیام آسان نہیں۔ یہ ایک جہانِ حیرت ہے۔ ‘اقبالیات‘ محض ایک مضمون نہیں‘ کئی مضامین کا مجموعہ ہے۔ تفسیر‘ علمِ حدیث‘ فقہ‘ کلام‘ فلسفہ‘ ادب‘ تصوف‘ تاریخ‘ سماجی علوم۔ ان سے قابلِ ذکر حد تک آگاہی نہ ہو تو اقبال کو گرفت میں لینا مشکل ہے۔ ہاشمی صاحب نے اقبال فہمی کا بھاری پتھر اٹھایا اور کئی عشروں تک اٹھائے رکھا۔ اقبال کی دعا تھی کہ کبوتر کے تنِ نازک میں شاہین کا جگر پیدا ہو۔ ڈاکٹر ہاشمی کو اور پھر ان کے کام کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اقبال کی اس دعا کا جواب ہیں۔اقبال پر اُن کا آخری کام ‘کتابیاتِ اقبال‘ ہے۔ اس کا آغاز 1977ء میں ہوا۔ گویا صرف یہی ایک کام کم و بیش نصف صدی پر محیط ہے۔ 1732ء صفحات پر پھیلا ہوا یہ ریکارڈ شاید اُن کی زندگی کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ہے۔ اس نوعیت کا کام ادارے کرتے ہیں۔ محققین کا ایک طائفہ اس طرز کے منصوبے کے لیے مختص ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مگر اسے تنہا سر انجام دیا۔ انہیں تحقیق کا مزاج دے کر دنیا میں بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے عمر بھر اپنے خالق کا بھرم قائم رکھا۔علامہ اقبال کے فکر و فن اور زندگی کے مختلف مراحل کا انہوں نے اپنی کتاب ”اقبال: فکر و فن‘‘ میں جس اختصار اور جامعیت کے ساتھ احاطہ کیا ہے‘ اس کی کوئی مثال میری نظر سے نہیں گزری۔ اگر کوئی عامی اقبال کے علمی کمالات‘ فنی عظمت اور مراحلِ حیات کو صحت کے ساتھ جاننا چاہتا ہے اور اسے یہ فرصت نہیں کہ اقبال پر موجود لٹریچر کا احاطہ کر سکے تو اس کیلئے یہ کتاب کفایت کرتی ہے۔ اقبال کے ساتھ‘ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور اُن کی فکر ‘اُن کی دلچسپی کے موضوعات میں شامل تھے۔ اقبال کے علاوہ انہوں نے مولانا کے خطوط کا ایک مجموعہ بھی مرتب کیا ہے۔ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب سے میرا تعلق دو حوالوں سے تھا۔ ایک حوالہ تو اقبالیات ہے‘ میں جس کا ایک طالب علم ہوں۔ دوسرا حوالہ شخصی ہے‘ اگرچہ اس کی اساس بھی علمی ہے۔ ڈاکٹر صاحب میرے ماموں ڈاکٹر ممتاز احمد مرحوم کے بہت گہرے دوست تھے۔ یہ بات ہمارے درمیان قربت کا باعث بنی۔ ممتاز صاحب کی جن لوگوں سے بہت دوستی تھی‘ ڈاکٹر ہاشمی ان میں سے ایک تھے۔ممتاز صاحب سے ان کا تعلق پچاس برس سے زیادہ عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس دوران اُن کے مابین خط و کتابت بھی ہوتی رہی۔ ان خطوط کی اشاعت کے بارے میں ایک دو مرتبہ ہاشمی صاحب سے بات ہوئی۔ ستمبر 2022ء میں انہوں نے یہ خطوط مجھے بھجوا دیے۔ اُن کی خواہش تھی کہ میں حواشی کے ساتھ ان کی اشاعت کا اہتمام کروں۔ ان مکاتیب کے ساتھ انہوں نے مجھے جو خط بھیجا اس میں لکھا: ”ممتاز احمد مرحوم کے جملہ خطوط بنام راقم ارسالِ خدمت ہیں۔ میں نے ایک بار کمپوز کرائے تھے مگر میرا لیپ ٹاپ چوری ہو گیا۔ اب آپ کو کمپوز کرانے ہوں گے۔ حواشی کی ضرورت ہو گی۔ ان خطوط میں مذکور بہت سی باتیں‘ امور آپ کو معلوم ہوں گے۔ ضرورت ہوئی تو میں بتا دوں گا‘‘۔ان خطوط میں 1966ء اور 1968ء میں لکھے گئے خطوط بھی شامل ہیں۔ اکثر خطوط میں ہاشمی صاحب کو ‘برادرِ عزیز‘ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ کہیں ‘پیارے بھائی‘ بھی لکھا ہے۔ ان خطوط میں زیادہ تر ادبی منظر نامے‘ اقبال اور جماعت اسلامی کا تذکرہ ہے۔ ڈاکٹر ہاشمی صاحب کئی برس سرگودھا میں رہے۔ زیادہ تر خطوط اسی دور میں لکھے گئے۔ جو لوگ ممتاز صاحب کو جانتے ہیں‘ انہیں معلوم ہے کہ وہ کیسی ہمہ گیر شخصیت تھے۔ میں نے زندگی میں چند افراد ہی دیکھے ہیں جو مطالعے کی وسعت اور ہمہ گیری میں ان کی مثل ہوں۔ وہ اُردو اور انگریزی میں یکساں مہارت اور قدرتِ کلام کے ساتھ لکھتے اور بولتے تھے۔ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے نام ان کے خطوط میں ان کی اس مہارت اور بزلہ سنجی کے کئی مظاہر موجود ہیں۔ ایک خط کسی دوا خانے کے پیڈ پر لکھا ہے۔ صفحے کے شروع میں ‘نام مریض‘ چھپا ہوا ہے۔ اس کے سامنے ممتاز صاحب نے لکھا: ‘رفیع الدین ہاشمی‘۔ مرض کے سامنے لکھا: ‘ایک چکر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں‘۔ اگلی سطر میں لکھا ہے: ‘ تشخیص و علاج: کراچی کا سفر‘۔ گویا ان کو کراچی آنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔نیچے ‘مرض‘ کی تفصیل میں لکھا ہے: ”اجی حضرت! کہیں تو ٹکیے۔ تدریس سے صحافت تک کا سفر کتنا ہی خوش آئند کیوں نہ ہو‘ مسئلہ ثبات کا ہے۔ مگر آپ بھی شاید اقبال کی طرح ‘تغیر‘ ہی میں ثبات پاتے ہیں۔ خیر اب ‘اُردو ڈائجسٹ‘ میں کتنے دن ٹکیے گا‘ یہ دیکھنا باقی ہے۔ سرگودھا تو خیر آپ کا گھر ہوا‘ بہاولپور اور ملتان جانے کی تقریب کیا تھی؟… (مظفر) بیگ صاحب کا خط جس پر آپ کے Footnotes (حواشی) تھے‘ یہاں بڑی دلچسپی سے پڑھا گیا۔ طے یہ کرنا باقی ہے کہ Text(متن) پر اعتبار کیا جائے یا Footnotesپر؟فضل من اللہ صاحب نے مجھ سے فرمائش کی ہے کہ (عبدالعزیز) خالد نمبر کیلئے کچھ لکھوں۔ میں نے کہا ہے کہ safe sideپر رہتے ہوئے میں خالد سے متعلق ایک ہی موضوع پر کچھ لکھ سکتا ہوں اور وہ ہے خالد کی ان نظموں کا جائزہ جو اُس نے جہادِ ستمبر کے سلسلے میں کہی تھیں۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اس کے علاوہ لکھنا خود کو کانٹوں پر گھسیٹنے سے کم نہیں۔ فضل من اللہ صاحب سے پہلی مرتبہ یہاں کراچی میں ملاقات ہوئی: ”بہت جی خوش ہوا حالی سے مل کر‘… بیگ صاحب کا اب بھی خط نہ آتا تو ایک شعر ان کی نذر کرتا:کب تیرے اجتناب نے جی کا زیاں کیا نہیں”خیر‘ یہ اور بات ہے‘ ہم نے کبھی کہا نہیں‘‘(قوسین میں رقم

You cannot copy content of this page